تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 47 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 47

ہیںمگر اثر ان کاساری پبلک پر پڑتا ہے جوان سے بے خبر ہوتی ہے اورجن کوپتہ بھی نہیں ہوتاکہ کوئی بلائیںہمارے لئے تیار ہورہی ہیں مگر پھرمخفی طورپر کچھ ایسے غیبی سامان پیدا ہوتے ہیںکہ وہ بلائیں دور ہوجاتی ہیںفرماتا ہے یہ رحمان خداہی ہے جوان کو دور کرتاہے لیکن ان لوگوں کو پھر بھی سبق نہیں ملتا اور یہ صداقتوں کامقابلہ کرتے چلے جاتے ہیں۔مونہہ سے تو یہ کہتے ہیں کہ ایک جھوٹامدعی پیدا ہوا ہے ہم اس کی مخالفت کرتے ہیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ ان کو اپنے خداکے یا د کرنے کی رغبت ہی نہیں ہے چونکہ ذکر الٰہی سے ان کا دل گھبراتاہے اس لئے انبیاء کاانکار کرتے ہیں تاکہ خدا تعالیٰ کی طرف توجہ نہ کرنی پڑے اوران ذمہ داریوںسے بچے رہیںجو ایمان لانےوالو ں پر ڈالی جاتی ہیں۔ہر شخص جوتاریخ سے ذرا بھی واقفیت رکھتاہے جانتاہے کہ انبیا ء کی اصل مخالفت اسی بنا پر ہوتی ہے کہ وہ دنیوی لہوولعب سے ہٹا کر خدا کی یاد کی طرف لوگوں کو لانا چاہتے ہیں اور یہی وجہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے انکار کی بھی ہے ورنہ محمدؐ رسول اللہ کوئی ایسی بات نہیں کہتے تھے جو انسان کی فطرت یا اخلاق کے خلاف ہو اور نہ وہ لوگوں سے کچھ مانگتے تھے کہ ان کی بات ماننا لوگوں پر بوجھ ہوتا۔روحانی نقطہ نگاہ سے ا س آیت میں اس امر کی طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ جب بھی کوئی روحانی چاند یا روحانی سورج ظاہر ہوتاہے تو ا س کی سچائی ظاہر کرنے کے لئے خدا کی طرف سے عذاب آتاہے سو اے لوگو بتائو کہ خواہ چاند کا وقت ہویاسورج کا خدا تعالیٰ کے عذاب سے تمہیں کون بچاسکتاہے۔بَلْ هُمْ عَنْ ذِكْرِ رَبِّهِمْ مُّعْرِضُوْنَ میں بتایا کہ ان کی یہ حالت صرف اعراض عَنْ ذِکْرِ اللہِ کے سبب سے ہے۔اَمْ لَهُمْ اٰلِهَةٌ تَمْنَعُهُمْ مِّنْ دُوْنِنَا١ؕ لَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ کیا ان کی تائید میںکوئی (سچے )معبود ہیں جو ان کو ہمارے عذاب سے بچالیں گے؟ وہ (معبود)تو اپنی جانوں کی بھی نَصْرَ اَنْفُسِهِمْ وَ لَا هُمْ مِّنَّا يُصْحَبُوْنَ۰۰۴۴ حفاظت نہیںکرسکتے اور نہ ہمارے مقابلہ میںکوئی ان کاساتھ دے سکتا ہے۔تفسیر۔پھر فرماتا ہے تم تو خدا تعالیٰ کی عبادت سے بچنا چاہتے ہو لیکن اس کے نتیجہ میں جوعذاب آئےگا اس سے کوئی جھوٹامعبود تمہیں نہیں بچاسکے گا بلکہ وہ جھوٹے معبود تو اپنے آپ کوبھی نہیں بچاسکتے اور نہ اپنا کوئی مدد گار