تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 45 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 45

يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ۰۰۴۱ طاقت نہیں رکھیں گے اور نہ ان کو( کوئی) مہلت دی جائےگی۔حلّ لُغَات۔وُجُوْھُھُمْ۔وُجُوْہٌ اَلْوَجْہُ کی جمع ہے اور اَلْوَجْہُ کے معنے ہیں اَوَّلُ مَا یَبْدُوْ لِلنَّاظِرِ مِنَ الْبَدَنِ وَ فِیْہِ الْعَیْنَانِ وَ الْاَنْفُ وَالْفَمُ یعنی چہرہ مُسْتَقْبَلُ کُلِّ شَیْءٍ ہر چیز کا سامنے کاحصہ اسی طرح اَلْوَجْہُ کے معنے ہیں سَیِّدُ الْقَوْمِ قوم کاسردار نَفْسُ الشَّیْ ءِ کسی چیز کاوجود اَلْجَاہُ عزت (اقرب) تَبْھَتُھُمْ۔تَبْھَتُ بَھَتَ سے مضارع واحد مؤنث غائب کا صیغہ ہے اور بَھَتَ فُلَانًا کے معنے ہوتے ہیں اَخَذَہُ بَغْتَةً اس کو اچانک آلیا اور تَأْتِیْھِمْ بَغْتَةً فَتَبْھَتَھُم کے معنے ہیں اَیْ تَغْلِبُھُمْ وَ تُحَیِّرُھُمْ کہ ان کو مصیبت اچانک آئےگی اور ان کوحیران کردےگی (اقرب ) یُنْظَرُوْنَ۔یُنْظَرُوْنَ اَنْظَرَ سے مضارع جمع مذکر غائب کامجہول کاصیغہ ہے اور اَنْظَرَہُ کے معنے ہیں أمْھَلَہٗ اس کو مہلت دی(اقرب) وَلَاھُمْ یُنْظَرُوْنَ کے معنے ہوںگے انہیںمہلت نہیں دی جائےگی۔تفسیر۔اصل بات یہ ہے کہ سزا ملنے سے پہلے انسان اس کی حقیقت کو نہیں سمجھتا اور یہ لوگ بھی نہیںسمجھ رہے لیکن جب عذاب آجائےگا اور نہ صرف چھوٹوں پر بلکہ بڑوں پر اور ان کے مدد گاروں پر بھی آجائے گا اور کوئی مدد کرنے والانہیں رہے گا۔اس وقت ان کو ہوش آئے گی وہ عذاب اچانک آئے گا اور ان کو حیران کردے گا اور یہ اس کو رد کرنے کی طاقت نہیں پائیںگے اورنہ خداہی ان کومہلت دےگا۔اس آیت میںبتایا گیا ہے کہ کفار اس عذاب کو نہ اپنے مونہوںسے ہٹاسکیںگے اور نہ اپنی پیٹھوںپرسے ہٹاسکیںگے یعنی نہ سامنے آنے والا عذاب ان سے دور ہو سکے گا۔اور نہ پیچھے سے آنےوالا عذاب ان سے دور ہو سکے گا سامنے آنے والے عذاب سے وہ عذاب مراد ہے جس کے نشانات ظاہر ہوجائیں اور پیچھے آنے والے عذاب سے وہ عذاب مراد ہے جو اچانک آجاتاہے اور جس کاا نسان کو پتہ تک نہیں لگتا بَلْ تَاْتِيْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا يَسْتَطِيْعُوْنَ۠ رَدَّهَا وَ لَا هُمْ يُنْظَرُوْنَ سے ظاہر ہے کہ جو عذاب ان کے لئے مقدر ہے وہ اچانک آئےگا گویاان کی پیٹھوں کی طرف سے عذاب کاآنا مقدر ہے۔انہیںپتہ بھی نہیں لگے گا کہ عذاب کب آنےوالا ہے اور کس طرح آنے والا ہے۔