تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 494 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 494

(بخاری کتاب المغازی باب اذ ھمت طائفتان و باب حدیث الافک و کتاب الوضوء باب خروج النساء الی البراز و کتاب الصوم باب ھل یخرج المعتکف لحوائجہ و السیرة الحلبیة باب ذکر مغازیہ غزوة احد)۔بلکہ خود لڑائی کی بھی ایک دفعہ آپ نے کمان کی(البدایة والنھایة ابتداء وقعة الجمل)۔غرض ان کو پوری عملی آزادی حاصل تھی صرف اس امر کا اُن کو حکم تھا کہ اپنے سر گردن اور منہ کے وہ حصے جو سر اور گردن کے ساتھ وابستہ ہیں اُن کو ڈھانپے رکھیں تاکہ وہ راستے جو گناہ پیدا کرتے ہیں بند رہیں۔اور اگر اس سے زیادہ احتیاط کر سکیںتو نقاب اوڑھ لیں لیکن یہ کہ گھروں میں بند رہیں اور تمام علمی اور تربیتی کاموں سے الگ رہیں۔یہ نہ اسلام کی تعلیم ہے اور نہ اس پر پہلے کبھی عمل ہو اہے۔احادیث میں آتا ہے کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ طریق تھا کہ آپ امن کے زمانہ میں صحابہ کرام ؓ سے ہمیشہ دوستانہ مقابلے کروایا کرتے تھے۔جن میں تیر انداز ی اور دوسرے فنون حرب اور قوت و طاقت کے مظاہر ے ہوتے تھے۔ایک دفعہ اسی قسم کے کھیل آپ نے مسجد میں بھی کرائے اور حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے فرمایا کہ اگر دیکھنا چاہو تو میرے پیچھے کھڑے ہو کر کندھوں کے اوپر سے دیکھ لو۔چنانچہ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا آپ کے پیچھے کھڑی ہو گئیں اور انہوں نے تمام جنگی کرتب دیکھے۔(بخاری کتاب العیدین باب الحراب و الدرق یوم العید)اس سے ثابت ہوتا ہے کہ اسلام عورت کو فنونِ حرب سے واقف رکھنا بھی ضروری قرار دیتا ہے تاکہ وقت پر وہ اپنی اور اپنے ملک کی حفاظت کر سکے۔اگر اس کا دل تلوار کی چمک سے کانپ جاتا ہے یا بندوق اور توپ کی آواز سن کر اُس کا خون خشک ہو جاتا ہے تو وہ اپنے بچوں کو خوشی سے میدان جنگ میں جانے کی اجازت نہیں دے سکتی اور نہ دلیری سے خود ملک کے دفاع میں حصہ لے سکتی ہے۔ہندوستان میں مغلیہ حکومت کی تباہی صرف عورت کی بزدلی اور مرد کی بے جا محبت کی وجہ سے ہوئی۔غدر کے زمانہ میں انگریزوں کے ہمدردوں نے جب دیکھا کہ مغلیہ افواج نے ایک ایسے مقام پر توپیں رکھ دی ہیں جہاں سے انگریز ی فوجوں پر زد پڑتی ہے تو انہوں نے زینت محل کو جو بادشاہ کی چہیتی بیوی تھی مگر در پردہ انگریز وں سے ساز باز رکھتی تھی اور چاہتی تھی کہ میرا بیٹا تخت نشین ہو جائے کہلا بھیجا کہ اگر کچھ فائدہ حاصل کرنا چاہتی ہو تو یہاں سے تو پیں اٹھوا دو۔چنانچہ زینت محل نے بیماری کا بہانہ بنا کر بادشا ہ سے کہا کہ میرا تو دل گھٹتا ہے اور میں بیہوش ہو جائوں گی اس لئے یا تو یہاں سے توپیں اٹھوا دو۔یا پہلے مجھے مار دو۔بادشاہ نے اس کے کہنے پر وہاں سے تو پیں ہٹا دیں مگر اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں کے ہاتھ سے حکومت نکل گئی اور شاہی خاندان او ر دلی کی حکومت کا تختہ اُلٹ گیا (The Great Mutiny India 1857 pg۔278& 314)۔اب اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو بادشاہ پر زینت محل کے اس بہانہ کاا سی وجہ سے اثر ہوا کہ وہ جانتا تھا کہ یہ تو پوں کی آوازیں سُننے کی عادی نہیں اگر اس