تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 44 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 44

یعنی ایسا شرارتی ہے کہ ہر جگہ آگ لگا دیتاہے یہی محاورہ اس جگہ استعمال ہوا ہے اور اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ خُلِقَ الْاِنْسَانُ مِنْ عَجَلٍ انسان جلدی سے پیدا کیا گیا ہے یعنی انسانی فطرت میںجلد بازی رکھی گئی ہے اور وہ چاہتاہے کہ جو کام بھی ہو جلدی سے ہوجائے لیکن خدا تعالیٰ کی طرف سے ہر کام کا ایک وقت مقرر ہوتاہے اس لئے فرماتا ہے سَاُورِيْكُمْ اٰيٰتِيْ فَلَا تَسْتَعْجِلُوْنِ۠ تم محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیاں سنتے ہی اسے جھوٹاجھوٹا کہنے کیوں لگ جاتے ہو۔تم جلدی نہ کرو محمد رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وسلم) کی تکذیب کا نتیجہ آخر نکل آئے گا اور ہماری پیشگوئیاں پوری ہو کر رہیںگی۔وَ يَقُوْلُوْنَ مَتٰى هٰذَا الْوَعْدُ اِنْ كُنْتُمْ صٰدِقِيْنَ۰۰۳۹ اور( یہ سن کر) وہ کہتے ہیں کہ اگر تم لوگ (یعنی مسلمان) سچے ہو تو یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟ تفسیر۔مگر کفار پھر بھی نہیںسمجھتے وہ یہی کہتے جاتے ہیں کہ اگر سچے ہو تو عذاب کاوعدہ جلدی پورا کرو آخر وہ عذاب کب آئےگا؟ لَوْ يَعْلَمُ الَّذِيْنَ كَفَرُوْا حِيْنَ لَا يَكُفُّوْنَ عَنْ اگر کفار اس گھڑی کوجان لیتے جبکہ وہ نہ اپنے مونہوںسے اور نہ اپنی پیٹھوں وُّجُوْهِهِمُ النَّارَ وَ لَا عَنْ ظُهُوْرِهِمْ وَ لَا هُمْ سے آگ کو ہٹا سکیںگے۔اور نہ کسی کی طرف سے ان کی مدد کی جائےگی (تو وہ اتنی تعلّی نہ کرتے) لیکن( وہ عذاب) يُنْصَرُوْنَ۰۰۴۰بَلْ تَاْتِيْهِمْ بَغْتَةً فَتَبْهَتُهُمْ فَلَا ان کے پاس اچانک آئے گا اوران کو حیران کردےگا پس وہ اس کو رد کرنے کی