تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 469
وَ لَا يَاْتَلِ اُولُوا الْفَضْلِ مِنْكُمْ وَ السَّعَةِ اَنْ يُّؤْتُوْا اُولِي اور تم میں سے( دین و دنیا میں) فضیلت رکھنے والے اور کشائش رکھنے والے لوگ قسم نہ کھائیں کہ الْقُرْبٰى وَ الْمَسٰكِيْنَ وَ الْمُهٰجِرِيْنَ فِيْ سَبِيْلِ اللّٰهِ١۪ۖ وَ اپنے رشتہ داروں اور مسکینوں اور اللہ کے راستہ میں ہجرت کرنے والوں کی مدد نہ کریں گے۔لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا١ؕ اَلَا تُحِبُّوْنَ اَنْ يَّغْفِرَ اللّٰهُ لَكُمْ١ؕ وَ اور چاہیے کہ وہ عفو سے کام لیں اور درگذر سے کام لیں۔کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہارے قصور معاف کرے اللّٰهُ غَفُوْرٌ رَّحِيْمٌ۰۰۲۳ اور اللہ بہت معاف کرنےوالا (اور) بار بار رحم کرنےوالا ہے۔حلّ لُغَات۔لَا یَاْتَلِ۔اِئْتَلٰی کے معنے ہیں حَلَفَ قسم کھائی ( اقرب) پس لَا یَاْ تَلِ کے معنے ہوںگے چاہیے کہ قسم نہ کھائیں۔تفسیر۔فرماتا ہے۔پاکیزہ بننے کا ایک یہ بھی طریق ہے کہ تم میں سے جن کو توفیق ہو وہ کبھی قسم نہ کھائیں کہ اپنے رشتہ داروں اور مسکینوں اور اللہ تعالیٰ کے راستہ میں ہجرت کرنے والوں پر آئندہ خرچ نہیں کر یں گے یعنی بعض دفعہ رشتہ داروں سے بھی کوئی جھگڑا ہو جاتا ہے اور مسکینوں اور مہاجروں سے بھی ہوجاتا ہے۔مگر مال داروں کو نہیںچاہیے کہ اس ناراضگی پر وہ قسم کھا لیں کہ اُن پر ہم کبھی خرچ نہیں کریں گے۔بلکہ چاہیے کہ وہ غصہ کی حالت میں درگذر کریں اور معاف کریں کیونکہ اگر تم معاف کرو گے تو تمہیں اُمید ہوگی کہ خدا تعالیٰ بھی تمہیں معاف کرے گا۔بعض حدیثوں میں آتا ہے کہ حضر ت عائشہ ؓ پر جو افتراء کیا گیا تھا اُس کے پھیلانے میں مسطح کا بھی دخل تھا جو حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ کا بھانجہ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا صحابی تھا۔اُس کی ماں نہایت نیک عورت تھی اُسی نے ایک موقعہ پر حضرت عائشہ ؓ کے سامنے مسطح کو گالی دی تھی جس پر حضرت عائشہ ؓ نے فرمایا کہ وہ تو بدری صحابی ہے اُس کو گالی کیوں دیتی ہو۔مسطح کی ماں نے کہا جانے دو۔وہ ایسی ایسی باتیں کرتا پھرتا ہے اور اس طرح بہتان کا واقعہ حضرت عائشہ ؓ کے کان میں پڑگیا۔حضرت ابو بکر رضی اللہ عنہ نے جب یہ بات سنی تو قسم کھا لی کہ آئندہ میں مسطح کے