تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 468 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 468

بظاہر برائی نہ معلوم ہوتی ہو تحریک کرتا ہے۔پھر اُس سے آگے چلاتا ہے۔پھر اس سے آگے حتیٰ کہ خطرناک برائی تک لے جاتا ہے۔گویا شیطان پہلے ہی گڑھے کے سرے پر لے جاکر انسان کو نہیں کہتا کہ اس میں کود پڑو بلکہ پہلے گھر سے دور لے جاتا ہے۔جس طرح ڈاکو گھر کے پاس حملہ نہیں کرتے یا جو لوگ بچوں کو قتل کرتے ہیں وہ گھر کے پاس نہیں کرتے بلکہ اُن کو دھوکہ اور فریب سے دُور لے جاتے ہیں۔کہتے ہیں آئو تمہیں مٹھائی کھلائیں اور جب شہر یا گائوں سے باہر لے جاتے ہیں اور دیکھتے ہیں کہ اب کوئی دیکھنے والا نہیں تو گلا گھونٹ کر مار دیتے ہیں یہی طریق شیطان کا ہوتا ہے۔وہ پہلے انسان کو اُس قلعہ سے نکالتا ہے جہاں خدا نے انسان کو محفوظ کیا ہو اہوتا ہے۔یعنی فطرت صحیحہ کے قلعہ سے۔انسان اُس سے باہر چلا جاتا ہے اور سمجھتا ہے کہ کوئی حرج نہیں مگر ہوتے ہوتے وہ اتنا دور چلا جاتا ہے کہ پھر اُس کا واپس لوٹنا مشکل ہو جاتا ہے اور شیطان کے پنجہ میں گرفتار ہو کر تباہ ہو جاتا ہے۔جھوٹے الزامات کے ذکر کے ساتھ یہ نصیحت فرما کر اس طرف توجہ دلائی گئی ہے کہ تم یہ نہ کہنا کہ یہ معمولی بات ہے کیا ہوا اگر کسی پر ہم نے زنا کا الزام لگا دیا۔یا یہ کہ ہم نے تو نہیں لگا یا کسی نے ہم کو بات سنائی اور ہم نے آگےسنا دی۔شیطان کا یہی طریق ہے وہ پہلے اپنے پیچھے چلاتا ہے اور آہستہ آہستہ روحانیت اور شریعت کے قلعہ سے دور لے جاتا ہے اور جب انسان دور چلا جاتا ہے تو اُس کو مار ڈالتا ہے۔پس شیطان پہلے تو یہی کرےگا کہ تحریک کرےگا کہ دوسرے کی کہی ہوئی بات بیان کردو تمہارا اس میں کیا حرج ہے۔لیکن جب تم ایسا کر لو گے تو پھر خود تمہارے منہ سے ایسی بات نکلوائےگا۔اور جب یہ بھی کر لو گے تو پھر اس فعل کا تم سے ارتکاب کروائےگا۔پس تم پہلے ہی اس کے پیچھے نہ چلو اور پہلے قدم پر ہی اس کی بات کو رد کر دو تا کہ تم تباہی سے محفوظ رہو۔پھر فرماتا ہے وَلَوْ لَا فَضْلُ اللّٰهِ عَلَيْكُمْ وَ رَحْمَتُهٗ مَا زَكٰى مِنْكُمْ مِّنْ اَحَدٍ اَبَدًا١ۙ وَّ لٰكِنَّ اللّٰهَ يُزَكِّيْ مَنْ يَّشَآءُ۔اگر اللہ تعالیٰ کا فضل اور اس کی رحمت تم پر نہ ہوتی تو تم میں سے کوئی شخص بھی پاک نہ ہوسکتا اللہ ہی ہے جو تم میں سے جس کو چاہتا ہے پاک کرتا ہے۔’’جس کو چاہتا ہے‘‘ سے یہ مراد نہیں کہ اندھا دھند کرتا ہے بلکہ یہ کہ جو خدا کا پسندیدہ ہو جاتا ہے اور اس کے احکام پر عمل کرتا ہے اُسے خدا تعالیٰ اپنا محبوب بنا لیتا ہے اور پاک کر دیتا ہے۔وَاللّٰہُ سَمِیْعٌ عَلِیْمٌ اور اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے یعنی جب کوئی اس کو پکارتا ہے تو سنتا ہے۔جس طرح اگر کوئی رستہ بھول جائے اور کسی کو آواز دے تو اگر وہ سُننے کی طاقت رکھتا ہوگا تو جواب دے گا۔اسی طرح جو لوگ سیدھے راستہ سے بھٹک جاتے ہیں وہ جب دعا کرتے ہیں اور خدا تعالیٰ کو پکارتے ہیں تو خدا تعالیٰ ان کی پکار کو سنتا ہے کیونکہ وہ سُننے والا ہے۔پھر جب خدا آواز دیتا اور انسان اُس کی طرف چلتا ہے تو خدا تعالیٰ کی صفت علیم اُس کی راہ نمائی کرتی ہے اور اس طرح وہ اس کے قرب تک پہنچ جاتا ہے۔