تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 470 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 470

خاندان کی مدد نہیں کروںگا۔حالانکہ وہ پہلے اُن کی بہت مدد کیا کرتے تھے(بخاری کتاب المغازی باب حدیث الافک)۔مفسرین کہتے ہیں کہ اسی واقعہ کی طرف اس آیت میں اشارہ ہے (القرطبی زیر آیت ھذا)۔لیکن اس آیت کا کسی خاص واقعہ کی طرف اشارہ نکالنے کی ضرورت نہیں۔اس آیت میں ایک عام سبق دیا گیا ہے کہ رشتہ داروں مسکینوں اور مہاجروں کی مدد کرنے کا جو قرآن کریم میں حکم ہے۔وہ اُس وقت تک کے لئے نہیں ہے جب تک کہ تم اُن سے خوش ہو۔بلکہ اگر وہ کوئی ایسی حرکت کر بیٹھیں جو تمہیں بری لگے تو بھی اُن پر خرچ نہ کرنے کی قسم نہ کھا لیا کرو۔یعنی غصہ کے دنو ں میں اگر کچھ دن کمی آجائے تو اور بات ہے مگر ہمیشہ کے لئے خرچ نہ کرنے کی قسم کھانا ناجائز امر ہے اس کی بجائے عفو اور درگذر اچھا ہے۔مگر یہ آیت بتا رہی ہے کہ اس جگہ اپنے مال کے خرچ کرنے کا ذکر ہے۔پبلک یا خدا تعالیٰ کے مال کے خرچ کرنےکا ذکر نہیں۔اگر پبلک یا خدا تعالیٰ کے مال کے خرچ کرنے کا سوال ہو تو پھر پبلک کی مصلحت کے تقاضا کو مقدم کرنا پڑے گا یا خدا تعالیٰ کے حکم کو مقدم کرنا پڑے گا۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے وَ لْيَعْفُوْا وَ لْيَصْفَحُوْا فرما کر مومنوں کو یہ عام ہدایت دی ہے کہ انہیں دوسروں کی خطائوں کو معاف کرنا اور ان کے قصوروں سے درگذر کرنا چاہیے۔مگر معاف کرنےکامسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔بعض لوگ نادانی سے ایک طرف نکل گئے ہیں اور بعض دوسری طرف۔وہ لوگ جن کا کوئی قصور کرتا ہے وہ تو کہتے ہیں کہ مجرم کو ضرور سزا دینی چاہیے تاکہ دوسروں کو عبرت ہو۔اور جو قصور کرتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ جب خدامعاف کرتا ہے تو بندے کو بھی معاف کرنا چاہیے مگر یہ سب خود غرضی کے فتوے ہیں۔جو شخص یہ کہتا ہے کہ خدامعاف کرتا ہے تو بندے کو بھی معاف کرنا چاہیے وہ اس قسم کی بات اسی وقت کہتا ہے جب وہ خود مجرم ہوتا ہے۔اگر مجرم نہ ہوتا تو ہم اس کی بات مان لیتے لیکن جب اُس کا کوئی قصور کرتا ہے تب وہ یہ بات نہیں کہتا۔اسی طرح جو شخص اس بات پر زور دیتا ہے کہ معاف نہیں کرنا چاہیے بلکہ سزا دینی چاہیے وہ بھی اُسی وقت یہ بات کہتا ہے جب کوئی دوسرا شخص اس کا قصور کرتا ہے لیکن جب وہ خود کسی کا قصور کرتا ہے تب یہ بات اس کے منہ سے نہیں نکلتی۔اُس وقت وہ یہی کہتا ہے کہ خدا جو معاف کرتا ہے توبندہ کیوں معاف نہ کرے۔پس یہ دونوں فتوے خود غرضی پر مشتمل ہیں۔اصل فتویٰ وہی ہو سکتا ہے جس میں کوئی اپنی غرض شامل نہ ہو۔اور وہ وہی ہے جو قرآن کریم نے دیا ہے کہ جب کسی شخص سے کوئی جرم سرزد ہو تو تم یہ دیکھو کہ سزا دینے میں اُس کی اصلاح ہو سکتی ہے یا معاف کرنے سے اس کی اصلاح ہو سکتی ہے۔اگر تمہیں سزا دینے میں مجرم کی اصلاح دکھائی دیتی ہو تو اُسے سزا دو۔اگر معاف کرنے سے اُس کے اخلاق درست ہو سکتے ہوں تو اُسے