تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 461 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 461

زیادہ سمجھ سکے تو دوسرے الفاظ میں انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہماری قوم ہلاک ہوگئی۔اب اس میں کوئی زندہ وجو د باقی نہیں رہا۔اور جب انہوں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ہماری قوم میں کوئی زندہ وجود باقی نہیں رہا۔ہماری قوم میں کوئی ایسا شخص نہیں رہا جو یہ کہہ سکے کہ میں نے قرآن سے فلا ں نئی بات نکالی ہے۔تو نتیجہ یہ ہوا کہ لوگوں نے قرآن پر تدبر کرنا ترک کر دیا۔انہوں نے حدیثوں پر غور کرنا چھوڑ دیا۔او ر انہوں نے کہا کہ جب ہمیں کوئی نئی بات نہ قرآن سے حاصل ہو سکتی ہے اور نہ حدیث سے مل سکتی ہے تو ہمیں قرآن اور حدیث پر غور کرنے کی ضرورت ہی کیا ہے۔پُرانی تفسیر یں ہی ہمارے لئے کافی ہیں۔یہ ایک لازمی نتیجہ تھا اس خیال کا کہ قرآن کریم سے اب کوئی نیا نکتہ نہیں نکل سکتا۔بلکہ رازی اور ابن حیان اور دوسرے مفسرین نے جو کچھ لکھا ہے وہی ہمارے لئے کافی ہے۔پھر یہ عذاب اتنا بڑھا کہ آج سے پچیس تیس سال پہلے بڑے بڑے مولوی ایسے تھے جو قرآن کریم کا صحیح ترجمہ تک نہیں جانتے تھے کیونکہ وہ سمجھتے تھے کہ ہمارے لئے قرآن کریم کا ترجمہ جاننا ضروری نہیں اتنا ہی کافی ہے کہ اگر موقعہ ملے تو کوئی پرانی تفسیر دیکھ لی جائے۔یہ ہلاکت محض اس وجہ سے ہوئی کہ قوم کو مایوس کر دیاگیا۔اسے کہہ دیا گیا کہ قرآن کریم کے معارف تک اس کی رسائی نہیں ہو سکتی۔اسی طرح جب مسلمانوں کو کہہ دیا گیا کہ خدا بولتا نہیں۔وہ کسی سے محبت نہیں کرتا۔وہ کسی سے پیار نہیں کرتا۔وہ کسی کی التجاء اور دعا کا جواب نہیں دیتا تو لوگوں کے دلوں سے خدا تعالیٰ کا قرب حاصل کرنے اور اس سے ملنے کی خواہش بھی مٹنی شروع ہو گئی آخر یہ خواہش کہ خدا مجھ سے ملے۔وہ میرے ساتھ باتیں کرے وہ مجھے اپنا پیار ا بنا لے۔وہ میر ا ہو جائے اور میں اس کا ہو جائوں انسان تبھی کرے گا جب اُسے یہ خیال ہوگا کہ ایسا ہو سکتا ہے لیکن جب اُس کا یہ خیال ہوکہ ایسا ہو ہی نہیں سکتا تو وہ اس غرض کے لئے کوشش ہی کیوں کرےگا۔جب مسلمانوں میں یہ خیال پیدا کر دیا گیا کہ ہم خدا کے نہیں ہو سکتے اور خدا ہمارا نہیں ہو سکتا۔جب قوم کے لیڈروں نے یہ کہنا شروع کر دیا کہ ھَلَکَ الْقَوْمُ ہماری قوم ہلاک ہوگئی۔ہماری قوم میں وہ استعداد ہی نہیں رہی کہ جس سے کام لے کر وہ خدا سے محبت کر سکے۔اس کے فضل کو اپنی طرف کھینچ سکے۔اس کی وحی اور الہام کی مورد بن سکے تو نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے اس طرف سے اپنی توجہ ہی ہٹالی اور خدا تعالیٰ کے دروازہ کو بند سمجھ کر اسے کھٹکھٹا نا ترک کر دیا۔اگر کسی مکان کا دروازہ بند ہو۔باہر کی طرف اس پر قفل لگا ہو ا ہو تو کون بے وقوف ہے جو اس دروازہ پر بیٹھ کر مالک مکان کو آوازیں دینی شروع کر دےگا اگر کسی کے مکان کے دروازہ کے متعلق یہ اعلان کر دیا جائے کہ اُسے قطعی طور پر بند کر دیا گیا ہے اور پھر اس دروازہ کو کوئی شخص کھٹکھٹا نا شروع کر دے۔تو سب لوگ اسے احمق اور پاگل سمجھیں گے کیونکہ وہ ایسا دروازہ