تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 462
کھٹکھٹا رہا ہوگا جو بند ہو چکا ہے اور جس کے کھلنے کا کوئی امکان ہی نہیں ہے۔اس کے مقابلہ میں اگر کسی عمارت کا دروازہ تو بند ہو لیکن کھڑکی کھلی ہو تو سب لوگ اس کھڑکی کی طرف جائیں گے دروازہ کی طرف نہیں جائیں گے۔وہ کھڑکی کی طرف اس لئے جائیں گے کہ کھڑکی کھلی ہوگی اور دروازہ کی طرف اس لئے نہیں جائیں گے کہ دروازہ بند ہو گا۔اسی طرح جب خدا تعالیٰ کی محبت کا دروازہ بند کر دیا گیا۔جب مسلمانوں میں یہ خیال پیدا کر دیا گیا کہ اس دروازے سے تمہیں کوئی آواز نہیں آسکتی خواہ تم کس قدر چلا ئو خواہ تم کس قدر آہ وزاری سے کا م لو تو نتیجہ یہ ہوا کہ انہوں نے خدا تعالیٰ کا دروازہ چھوڑ دیا۔اور پیروں اور فقیروں کے پیچھے چل پڑے۔کیونکہ گو وہ چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں تھیں مگر وہ چھوٹی چھوٹی کھڑکیاں انہیں کھلی نظر آئیں اور بڑا دروازہ انہوں نے مقفّل پایا۔پس وہ خدا کے دروازہ کو چھوڑ کر پیروں اورفقیروں کے پیچھے چل پڑے انہوں نے کہا کہ یہ ہیں تو کھڑکیاں مگر کھلی کھڑکیاں ہیں۔پس آئو ہم ان کھڑکیوں سے اند ر کی طرف جھانکیں۔مگر جانتے ہوا س کا کیا نتیجہ ہوا ؟ یہی ہوا کہ خدا کی محبت اور خدا کا پیا ر مسلمانوں کے دلوں سے جاتا رہا۔روحانیت کا اُ ن میں فقدان ہو گیا۔وہ اس کے قرب سے ہمیشہ کے لئے محروم ہوگئے اور خدا تعالیٰ کا تازہ بتازہ کلام سننے سے اُن کے کان ہمیشہ کے لئے نا آشناہو گئے۔اسی طرح اسلامی تمدن اور سیاست میں بھی خطرناک نقص پیدا ہو گیا کیونکہ کہہ دیا گیا کہ صحابہ ؓ کے زمانہ میں تمدن نےجوشکل اختیار کی تھی اس سے زیادہ اسلامی تمدن کو کوئی شکل نہیں دی جا سکتی۔حالانکہ تمدن کی شکل ہر زمانہ کے لحاظ سے بدلتی چلی جاتی ہے۔کسی زمانہ میں اس کی کوئی شکل موزوں ہوتی ہے اور کسی زمانہ میں اُس کی کوئی شکل موزوں ہوتی ہے۔سچا مذہب وہی ہوتا ہے جو اپنے اندر لچک رکھتا ہے۔اسی لئے وہ مذاہب جو دنیا میں ایک لمبے عرصہ کے لئے آتے ہیں اُن کی تعلیم کے اندر ایک قسم کی لچک پائی جاتی ہے جو مختلف زمانوں اور مختلف حالات کے مطابق تغیر پذیر ہو تی چلی جاتی ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے زمانہ میں اسلامی تمدن نے جو شکل اختیا ر کی وہ اور تھی مگر اب اس تمدن نے جو شکل اختیار کرنی ہے وہ اورہے۔بے شک اس تمدن کے اصول ایک ہی رہیں گے مگر اس کی شکل زمانہ کے حالات کے لحاظ سے بدلتی چلی جائےگی اعتراض تب ہو جب اصول میں تبدیلی ہو لیکن جیسا کہ میں نے بتایاہے اصول ہمیشہ ایک ہی رہیں گے۔صرف اس تمدن کی شکل میں زمانہ کے حالات کے لحاظ سے تبدیلی ہو تی چلی جائےگی۔اور شکل میں یہ تبدیلی بالکل جائز ہو گی۔مگر چونکہ کہہ دیا گیا کہ اسلامی تمدن انتہا تک پہنچ چکا ہے اور یہ کہ اس قانون میں کوئی لچک نہیں اگر لوگ پُرانے زمانہ کے تمدن کی نقل کریں تو بے شک کریں لیکن اس کے خلاف کوئی اور شکل تجویز نہیں کر سکتے اس کا نتیجہ یہ ہوا کہ مسلمانوں نے تمدن کے متعلق غور و فکر کرنا چھوڑ دیا اور وہ اس