تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 460
پر یہ اثرپڑتا ہے کہ معمولی بات ہے۔اور جب اس قسم کے الزام کثرت سے لگائے جائیں اور لوگ اُن کے پھیلانے میں کسی کی عزت کی پرواہ نہ کریں تو لازماً وہ ان باتوں کو معمولی سمجھیں گے اور جب معمولی سمجھیں گے تو اُن کا ارتکاب بھی اُن کے لئے معمولی بات ہو گی۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اگر تم ایسا کرو گے اور اس قسم کی افواہوں کو نہیں روکو گے تو تمہاری قوم ان کو معمولی سمجھنے لگے گی۔اور جب معمولی سمجھے گی تو اس کا ارتکاب بھی کثرت سے کرے گی۔اس لئے ایسی باتوں کو پھیلنے ہی نہ دو۔اسی نکتہ کی طرف رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی ان الفاظ میں توجہ دلائی ہے کہ مَنْ قَالَ ھَلَکَ الْقَوْمُ فَھُوَ اَھْلَکَھُمْ۔یعنی جس شخص نے یہ اعلان کرنا شروع کر دیا کہ ہماری قوم تباہ ہو گئی وہ اپنی قوم کو تباہ کرنے والا ہے۔بعض لوگوں نے اس حدیث سے یہ دھوکا کھایا ہے کہ کسی شخص کے یہ کہنے سے کہ قوم ہلاک ہوگئی۔ساری کی ساری قوم کس طرح ہلاک ہو سکتی ہے اور چونکہ یہ بات اُن کی سمجھ میں نہیں آئی اس لئے وہ کہتے ہیں کہ اس حدیث میں اَھْلَکَھُمْ کا لفظ نہیں بلکہ اَھْلَکُھُمْ کا لفظ ہے یعنی وہ شخص سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ انہوں نے قومی نفسیات کو سمجھا ہی نہیں۔یہ کہہ دینا کہ جو شخص کہتا ہے قوم ہلاک ہوگئی وہ سب سے زیادہ ہلاک ہونے والا ہے۔اول تو بعض حالتوں میں درست ہی نہیں اور پھر یہ صحیح بھی نہیں کہ ان الفاظ کی وجہ سے وہ سب سے زیادہ ہلاک ہونےوالا بن جاتا ہے۔درحقیقت ان لوگوں نے اس بات کو نہیں سمجھا کہ جب کسی قوم میں مایوسی پیدا کر دی جائے تو وہ بڑے بڑے کام کرنے سے ہمیشہ کے لئے محروم ہو جاتی ہے۔کبھی کسی قوم کا دانا اور سمجھدار لیڈر ایسا نہیں ہو سکتا جو اُس کو مایوس کر دے اور آئندہ ترقیات کے متعلق اس کے دل میں نا امیدی پیدا کر دے۔کیونکہ جب کسی قوم کو مایوس کر دیا جائے تو وہ تباہ ہونی شروع ہو جاتی ہے۔چنانچہ دیکھ لو مسلمانوں میں جب یہ خیال پیدا ہوا کہ قرآن کریم کی تفاسیر جو لوگ پہلے لکھ چکے ہیں اُن سے زیادہ اب کچھ نہیں لکھا جا سکتا تو مسلمانوں میں اُسی وقت تنزل پیدا ہونا شروع ہو گیا۔اُن کی معرفت جاتی رہی اور وہ آسمانی علوم سے اس قدر محروم ہو گئے کہ اس زمانہ میں جب حضرت مسیح موعود علیہ الصلوٰۃ والسلام نے قرآن کریم کے نئے نئے معارف بیان کرنے شروع کر دئیے اور پھر ہمارے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ نے اس کے عجیب و غریب اسرار کھولے تو مسلمانوں نے کہنا شروع کرد یا کہ یہ تفسیر بالرائے ہے۔گویا انہیں معرفت کی باتوں سے اتنی دوری ہوگئی کہ اسلام کی باتیں انہیں کفر کی باتیں دکھائی دینے لگیں۔اور قرآن کریم کی باتیں انہیں بے دینی کی باتیں نظر آنے لگیں۔اس کی وجہ یہی ہے کہ جب قوم سے کہہ دیا گیا کہ آئندہ لوگوں کو کوئی ذہنی ارتقاء حاصل نہیں ہو سکتا۔آئندہ کوئی شخص ایسا پیدا نہیں ہو سکتا جوقرآن کریم کو پہلوں سے