تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 459 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 459

کا لڑکا ایک ہندو سے پڑھتا تھا۔ایک دن اُستاد کسی بات پر نارا ض ہوا تو لڑکے نے تلوار اُٹھالی اور چاہا کہ اُسے قتل کر دے۔وہ ہندو آگے آگے بھاگا اور لڑکا پیچھے پیچھے۔وہ بھاگتا جارہا تھا کہ راستہ میں اس لڑکے کا باپ مل گیا۔اُس نے یہ سمجھتے ہوئے کہ باپ اسے روک لےگا کہاخاں صاحب دیکھئے آپ کا لڑکا مجھے قتل کرنا چاہتا ہے۔اسے روکئے۔اب خاں صاحب بجائے اس کے کہ اپنے لڑکے کو روکتے۔اس ہندو کو گالی دے کر کہنے لگے۔اوبنیئے۔کیا کر رہا ہے۔میرے بیٹے کا یہ پہلا وار ہے خالی نہ جائے۔غرض جب اشاعتِ فحش ہو اور بدی کا ذکر عام طور پر لوگوں کی زبان پر ہو۔تو وہ بدی قوم میں پھیل جاتی ہے۔اسی لئے ہماری شریعت نے عیوب کا عام تذکرہ ممنوع قرار دیا ہے۔اور فرمایا ہے کہ جو اولی الامر ہیں اُن تک بات پہنچا دو اور خود خاموش رہو۔اگر ایسا نہ کیا جائے اور ہر شخص کو یہ اجازت ہو کہ وہ دوسرے کا جو عیب بھی سنے اُسے بیان کرتا پھرے۔تو اُس کے نتیجہ میں قلوب میں سے بدی کا احساس مٹ جاتا ہے اور بُرائی پر دلیری پیدا ہو جاتی ہے۔پس اسلام نے بدی کی اس جڑ کو مٹایا۔اور حکم دیا کہ تمہیں جب کوئی برائی معلوم ہو تو اولی الامر کے پاس معاملہ پہنچا ؤ جو سزا دینے کا بھی اختیار رکھتے ہیں۔اور تربیت نفوس اور اصلاحِ قلوب کے لئے اور تدابیر بھی اختیار کر سکتے ہیں۔اس طرح بدی کی تشہیر نہیں ہو گی۔قوم کا کیر یکٹر محفوظ رہے گا اور لوگوں کی اصلاح بھی ہو جائےگی پس یاد رکھو کہ نیکی کی تشہیر اور بدی کا اخفاء یہ کوئی معمولی بات نہیں۔بلکہ قومیں اس سے بنتی اور قومیں اس کی خلاف ورزی سے بگڑتی ہیں۔جتنا تم اس بات کا زیادہ ذکر کرو گے کہ فلاں اتنی قربانی کرتا ہے۔فلاں اس طرح نمازیں پڑھتا ہے۔فلاں اس اہتمام سے روزے رکھتا ہے اتنا ہی لوگوں کے دلوں میں دین کے لئے قربانی کرنے اور نمازیں پڑھنے اور روزے رکھنے کی خواہش پیدا ہو گی اور جتنی تم اس بات کو شہرت دو گے کہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں وہ خیانت کرتے ہیں۔وہ چوری کرتے ہیں۔وہ ظلم کرتے ہیں اتناہی لوگوں کے دلوں میں اُن بدیوں کی طرف رغبت پیدا ہوگی اسی لئے قرآن کریم نے ہمیں یہ تعلیم دی ہے کہ جب تم کسی کی نیکی دیکھو تو اُسے خوب پھیلائو اور جب کسی کی بدی دیکھو اس پر پر دہ ڈالو۔ایک بلی بھی جب پاخانہ کرتی ہے تو اُس پر مٹی ڈال دیتی ہے۔پھر انسان کے لئے کس قدر ضروری ہے کہ وہ بدی کی تشہیر نہ کرے بلکہ اُس پر پردہ ڈالے اور اس کے ذکر سے اپنے آپ کو روکے۔اگر اس ذکر سے اپنے آپ کو نہیں روکا جائےگا تو متعدی امراض کی طرح وہ بدی قوم کے دوسرے افراد میں بھی سرائت کر جائے گی۔اور خود اس کا خاندان تو لازماً اس میں مبتلا ہو جا ئےگا۔کیونکہ انسان کا قاعدہ ہے کہ جو چیز کثرت سے اُس کے سامنے آئے وہ اس کی نظر میں حقیر ہو جاتی ہے اور جس بات کے متعلق یہ عام چرچا ہو کہ لوگ کثرت سے کرتے ہیں وہ بالکل معمولی سمجھی جاتی ہے۔ا س اصول کے ماتحت جو بات لوگوں میں عام طورپر پھیلائی جائے اس کا لوگوں