تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 451
لائے اور حال پوچھ کر باہر چلے گئے۔باہر جا کر آپ نے حضرت عمر ؓ ، حضرت علی ؓ اور اسامہ بن زید ؓ کو بلا کر مشورہ لیا کہ کیا کرنا چاہیے۔حضرت عمر ؓ اور اسامہ بن زید ؓ دونوں نے کہا یہ منافقوں کی پھیلائی ہوئی بات ہے اس میں کوئی حقیقت نہیں۔لیکن حضرت علی ؓ کی طبیعت تیز تھی انہوں نے کہا بات کوئی ہو یا نہ ہو آپ کو ایسی عورت سے جس پر اتہام لگ چکا ہے تعلق رکھنے کی کیا ضرورت ہے۔لیکن ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آپ اُن کی لونڈی سے پوچھ لیں۔اگر کوئی بات ہوئی تو وہ بتا دے گی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عائشہ ؓ کی لونڈی بریرہ سے پوچھا کہ کیا تجھے عائشہ ؓ کا کوئی عیب معلوم ہے۔اُس نے کہا میں نے عائشہ ؓ کا سوائے اس کے اور کوئی عیب نہیں دیکھا کہ کم سنی کی وجہ سے وہ سو جاتی ہیں اور بکری آکر آٹا کھا جاتی ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم باہر تشریف لے گئے اور صحابہ ؓ کو جمع کیا اور فرمایا۔کوئی ہے جو مجھے اس شخص سے بچائے جس نے مجھے دُکھ دیا ہے۔اس سے آپ کی مراد عبداللہ بن ابی ابن سلول سے تھی۔حضرت سعد بن معاذ ؓ جو اوس قبیلہ کے سردار تھے کھڑے ہوئے۔اور انہوں نے کہا یا رسول اللہ اگر وہ شخص ہم میں سے ہے تو ہم ا س کو مارنے کے لئے تیار ہیں۔اور اگر وہ خزرج میں سے ہے تب بھی اس کو مارنے کے لئے تیار ہیں۔شیطان جو فتنہ ڈلوانے کے لئے موقعہ کی تلاش میں رہتا ہے۔اس موقعہ پر بھی نہ چونکا۔خزرج کو یہ خیال نہ آیا کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات سے کتنا صدمہ پہنچا ہے۔انہوں نے اس کو قومیت کا سوال بنا لیا چنانچہ سعد بن عبادہ ؓ کھڑے ہوئے اور انہوں نے سعد بن معاذ ؓ سے کہا کہ تم ہمارے آدمی کو نہیں مار سکتے اور نہ تمہاری طاقت ہے کہ ایسا کر سکو۔اس مقابلہ میں دوسرے صحابی اٹھے اور انہوں نے کہا ہم اُسے مار ڈالیں گے اور دیکھیں گے کہ کون اسے بچاتا ہے اب بجائے اس کے کہ یہ مقابلہ باتوں تک ہی رہتا اوس اور خزرج نے میانوں سے تلواریں نکالنی شروع کر دیں اور رسو ل کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بڑی مشکل سے اُن کو ٹھنڈا کیا۔اوس کہتے تھے کہ جس شخص نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو دُکھ دیا ہے اُس کو ہم مار ڈالیں گے اور خزرج کہتے تھے کہ تم یہ بات اخلاص سے نہیں کہتے۔چونکہ تم جانتے ہو کہ وہ ہم میں سے ہے اس لئے یہ بات کہتے ہو۔ان دونوں کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی۔مگر شیطان نے اُن میں فتنہ پیدا کر دیا۔اُس وقت کی حالت کے متعلق ہر شخص آسانی سے سمجھ سکتا ہے کہ کیسی دردناک ہو گی۔ادھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اتنی ایذاء پہنچ رہی تھی اور ادھر مسلمانوں میں تلوار چلنے تک نو بت پہنچ گئی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اُن کو ٹھنڈا کرکے گھر تشریف لے گئے تو دیکھا کہ حضرت عائشہ ؓ رورہی ہیں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جو بات لوگوں میں مشہور ہو رہی ہے تم نے سُنی ہے۔انہوں نے کہا ہاں سُنی