تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 452 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 452

ہے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا دیکھو انسان سے گناہ ہو جاتا ہے۔اگر تم سے غلطی ہو گئی ہو تو توبہ کرلو۔اور اگر نہیں ہوئی تو خدا تمہاری برأت کر دے گا۔حضرت عائشہ ؓ نے اپنے باپ حضرت ابوبکر ؓ کی طرف دیکھا اور کہا کہ آپ اس کا جواب دیں۔انہوں نے کہا مجھے تو اس کا کوئی جواب نہیں آتا۔پھر انہوں نے اپنی والدہ سے کہا کہ آپ اس کا جواب دیں۔انہوں نے بھی کہا کہ میں کوئی جواب نہیں دے سکتی۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ یہ جواب سن کر مجھ پر ایسی حالت طاری ہوئی کہ میرے آنسو جو بہ رہے تھے یکدم تھم گئے اور میں نے بڑے جوش سے کہا کہ وہ بات جو مشہور ہو رہی ہے اس کے متعلق اگر میں یہ کہتی ہوں کہ غلط ہے تو آپ مانیں گے نہیں۔اور اگر کہتی ہوں کہ سچ ہے تو یہ جھوٹ ہے اس لئے میں اور تو کچھ نہیں کہتی وہی کہتی ہوں جو حضرت یوسف ؑ کے باپ حضرت یعقوب علیہ السلام نے کہا تھا کہ فَصَبْرٌ جَمِیْلٌ وَ اللّٰہُ الْمُسْتَعَانُ۔یہ کہہ کر میں وہاں سے اٹھی اور اپنے بستر پر آگئی۔اتنے میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر وحی کی حالت طاری ہوئی اور آپ پر یہ آیات نازل ہوئیں کہ اِنَّ الَّذِيْنَ جَآءُوْا بِالْاِفْكِ عُصْبَةٌ مِّنْكُمْ١ؕ لَا تَحْسَبُوْهُ شَرًّا لَّكُمْ١ؕ بَلْ هُوَ خَيْرٌ لَّكُمْ١ؕ لِكُلِّ امْرِئٍ مِّنْهُمْ مَّا اكْتَسَبَ مِنَ الْاِثْمِ١ۚ وَ الَّذِيْ تَوَلّٰى كِبْرَهٗ مِنْهُمْ لَهٗ عَذَابٌ عَظِيْمٌ۔یعنی وہ لوگ جنہوں نے ایک خطرناک جھوٹ بولا ہے وہ تمہی میں سے ایک گروہ ہے۔مگر تم اُس کے اس الزام کو اپنے لئے کسی خرابی کا موجب نہ سمجھو بلکہ خیر کا موجب سمجھو کیونکہ اس الزام کی وجہ سے جھوٹا الزام لگانے والوں کی سزائوں کا جلدی ذکر ہو گیا اور تمہیں ایک پُر حکمت تعلیم مل گئی۔اور یقیناً اُن میں سے ہر شخص اپنے اپنے گناہ کے مطابق سزا پائےگا اور جو شخص اس گناہ کے بڑے حصّے کا ذمہ وار ہے اُس کو بہت بڑا عذاب ملے گا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر یہ وحی نازل ہوئی تو آپ کا چہرہ روشن ہو گیا اور آپ نے حضرت عائشہ ؓ سے فرمایا اے عائشہ ؓ! خدا نے تمہیں اس الزام سے بری قرار دے دیا ہے۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کی والدہ نے یہ بات سُنی تو انہوں نے کہا۔عائشہ ؓ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا شکریہ ادا کرو۔انہوں نے کہا میں تو اسی خدا کا شکر ادا کروں گی جس نے مجھے اس الزام سے بری قرار دیا ہے۔( السیرۃ الحلبیۃ باب ذکر مغازیہ صلی اللہ علیہ وسلم غزوۃ بنی المصطلق و السیرۃ النبویۃ لابن ہشام خبر الافک فی غزوۃ بنی المصطلق )