تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 450

بے خبر سوئی پڑی تھیں منہ کھلا تھا اور پردہ سے پہلے اس صحابی نے آپ کو دیکھا ہو ا تھا۔پہچان لیا اور زور سے اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُوْنَ پڑھا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ اس آواز سے میری آنکھ کھل گئی۔اس کے بعد حضرت صفوان ؓ نے چپکے سے قریب آکر اپنا اونٹ بٹھا دیا۔اور حضرت عائشہ ؓ اُس پر سوار ہو گئیں۔اور وہ صحابی ؓ اونٹ کی مہار پکڑ کر مدینہ کو چل پڑے جب مدینہ پہنچے تو عبداللہ بن ابی ابن سلول اور اس کے ساتھیوں نے مشہور کر دیا کہ حضرت عائشہ ؓنعوذ باللہ جان بوجھ کر پیچھے رہی ہیں اور اُن کا صفوان ؓ سے تعلق تھا۔اور یہ شور اتنا بڑھا کہ بعض صحابہ ؓ بھی نادانی سے اُن کے ساتھ مل گئے۔جن میں سے ایک حسان بن ثابت ہیں اور دوسرے مسطح بن اثاثہ۔اسی طرح ایک صحابیہ حمنہ بنت حجش بھی تھیں جو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی سالی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا کو چونکہ اس حادثہ سے سخت صدمہ ہوا تھا اور وہ چھوٹی عمر میں ایک ایسے جنگل میں تن تنہا رہ گئی تھیں جہاں ہُو کا عالم تھا اس لئے وہ مدینہ پہنچ کر اس صدمہ سے بیمار ہو گئیں۔ادھر ان کے متعلق منافقین میں کھچڑی پکتی رہی۔آخر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو بھی یہ باتیں پہنچ گئیں مگر آپ حضرت عائشہ ؓکی بیماری دیکھ کر اُن سے دریافت نہیں فرما سکتے تھے۔ادھر دن بدن باتیں زیادہ بڑھتی جاتی تھیں۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ میں یہ دیکھ کر حیران ہوتی کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم گھر میں تشریف لاتے تو آپ کا چہرہ اُترا ہوا ہوتا اور مجھ سے کوئی بات نہ کرتے۔دوسروں سے حال پوچھتے اور چلے جاتے۔اسی دوران میں آپ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے اجازت لے کر اپنے والدین کے ہاں تشریف لے گئیں۔ایک دن قضائے حاجت کے لئے ایک اور عورت کے ساتھ جو اُن کی رشتہ دار تھیں با ہر گئیں ( اُس وقت تک پاخانے ابھی تک گھروں میں نہیں بنے تھے ) جوعورت اُن کے ساتھ تھی اُس نے اپنے بیٹے مسطح کا نام لے کر کہا کہ اُس کا بُرا ہو۔حضرت عائشہ ؓ نے کہا۔ایسا کیوں کہتی ہو۔اُس نے کہا ایسا کیوںنہ کہوں آپ کو نہیں پتہ۔وہ تو اِس اِس قسم کی باتیں کرتا ہے معلوم ہوتا ہے وہ عورت کوئی موقعہ نکالنا چاہتی تھی کہ بات کہے۔جب حضرت عائشہ ؓ نے اس سے یہ بات سُنی تو انہیں سخت صدمہ ہو ا۔وہ جوں توں کرکے گھرتو پہنچیں مگر اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ بیمار ی کا پھر زور ہو گیا۔انہوں نے اپنے والد اور والدہ سے پوچھا کہ کیا بات ہے۔انہوں نے کہا کہ لوگوں میں اس اِ س طرح بات مشہور ہو رہی ہے۔اس پر اُن کی والدہ نے تسلی دیتے ہوئے کہا۔کیا ہوا جہاں سو کنیں ہوتی ہیں وہاں اس قسم کی باتیں ہوا ہی کرتی ہیں۔تجھے اس کی پرواہ نہیں کرنی چاہیے۔لیکن حضرت عائشہ ؓ کو اس قدر صدمہ ہوا کہ رونے لگ گئیں اور صبح تک اُن کی آنکھ نہ لگی۔دن چڑھا تو پھر رونے لگ گئیں اور دوپہر تک یہی حالت رہی۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم تشریف