تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 437
اَلزَّانِيْ لَا يَنْكِحُ اِلَّا زَانِيَةً اَوْ مُشْرِكَةً١ٞ وَّ الزَّانِيَةُ لَا اور ایک زانی زانیہ یا مشرکہ کے سوا کسی سے ہم صحبت نہیں ہوتا۔اور نہ زانیہ يَنْكِحُهَاۤ اِلَّا زَانٍ اَوْ مُشْرِكٌ١ۚ وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى زانی یا مشرک کے سوا کسی سے ہم صحبت ہوتی ہے۔اور الْمُؤْمِنِيْنَ۰۰۴ مومنوں پر یہ (بات) حرام کی گئی ہے۔حلّ لُغَات۔لَایَنْکِحُ۔لسان العرب میں لکھا ہے کہ علامہ ازہری جو لغت کے امام ہیںکہتے ہیں۔اَصْلُ النِّکَاحِ فِیْ کَلَامِ الْعَرَبِ اَلْوَطْءُ کہ نکاح کے اصل معنے لغت عرب میں عورت کے ساتھ تعلقات قائم کرنے کے ہیں۔پس اَلزَّانِیْ لَایَنْکِحُ اِلَّا زَانِیَۃً کے معنے ہوںگے کہ کوئی زانی تعلقات قائم نہیں کرتا مگر زانیہ سے ہی۔تفسیر۔بعض لوگوں نے اس آیت سے یہ نتیجہ نکالا ہے کہ زانی کا زا نیہ یا مشرکہ کے ساتھ ہی نکاح جائز ہے۔شریف مومنہ کے ساتھ جائز نہیں۔(طبری زیر آیت ھذا)لیکن یہ معنے تواتر اور عقل کے بالکل خلاف ہیں۔کیونکہ کسی کو زانی یا زانیہ کا علم کس طرح ہو سکتا ہے۔اگر زانی یا زانیہ پہلے سے شادی شدہ ہوںگے توروایت کے مطابق تو ان کو سنگسار کیا جا چکا ہوگا۔پس اس روایت کے مطابق تو اس آیت کے یہ معنے بنیں گے کہ سنگسار شدہ عورت صرف سنگسار شدہ مرد کے ساتھ شادی کر سکتی ہے جو نہایت احمقانہ خیال ہے۔اور مومنوں پر یہ بات حرام کر دی گئی ہے کہ وہ کسی سنگسار شد ہ عورت سے شادی کریں۔ایک معمولی سے معمولی عقل کا آدمی بھی اس کو بالکل بے ہودہ حکم قرار دےگا۔یہ ساری غلطی درحقیقت نَکَحَ کے معنے نہ سمجھنے کی وجہ سے پیدا ہوئی ہے۔نکاح کے دو معنے ہوتے ہیں۔ایک معنے شریعت کے قانون کے مطابق اعلان ازدواج کے ہیں وہ معنے اس جگہ مراد نہیں۔کیونکہ ان معنوں کی رُو سے یہ آیت بالکل لغو ہو جاتی ہے دوسرے معنے نکاح کے مرد عورت کے باہمی اجتماع کے ہیں اور یہی معنے اس جگہ لگتے ہیں۔یہ معنے اس آیت پر چسپاں کر کے دیکھو تو یہ آیت بڑے اعلیٰ درجہ کے معنوں پر مشتمل نظر آئے گی۔فرماتا ہے کہ زنا کرنے والا مرد جب بھی صحبت کرتا ہے زنا کرنے والی عورت سے کرتا ہے۔اور یہ ایک حقیقت ہے کہ زنا کرنے والا مرد تب ہی زنا کرنے والا کہلا سکتا ہے جبکہ اس سے صحبت کرنے والی عورت بھی زانیہ ہو۔اگر وہ