تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 436
یہاں خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ تمہیں اُس سزا پر جو فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ ہو۔یعنی دین کے حکم کے پورا کرنے کے لئے دی جائے رحم نہیں آنا چاہیے۔پس اس سے وہ سزا نکل گئی جو قوانین نیچر کی خلاف ورزی کی وجہ سے ملتی ہے مثلاً اگر کسی کا گِر کر دانت ٹوٹ جائے تو اس پر رحم کرنا جائز ہے یا کوئی بیمار ہو تو اُس پر بھی رحم کرنا جائز ہے۔اسی طرح جو لوگ ڈوب جاتے ہیں یا زلازل وغیر ہ سے تباہ ہو جاتے ہیں اُن کے متعلق بھی رحم کے جذبات کا اظہار کرنا یا اُن کے پسماندگان کی مالی امداد کرنا اور اُن سے محبت اور ہمدردی سے پیش آنا جائز ہے۔کیونکہ ان حوادث میں ہزاروں ایسے لوگ بھی تباہ ہو جاتے ہیں جن کی تباہی کسی مامور کے انکار کا نتیجہ نہیں ہوتی۔پس اس قسم کے حوادث میں بنی نوع انسان کے ساتھ ہمدردی سے پیش آنا نہایت ضروری ہوتا ہے مگر جسے دینی احکام اور قانونِ شریعت کی خلاف ورزی کرنے پر سزا ملے اس پر رحم نہیں کیا جا سکتا۔یعنی یہ نہیں ہو سکتا کہ جس کے متعلق شرعی قانون کے ماتحت زنا کا الزام ثابت ہوجائے اُس کو قرآنی کوڑے نہ لگائے جائیں۔ہاں اگر یہ خواہش کی جائے کہ کاش یہ ایسا نہ کرتا تو یہ جائز ہے۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اس آیت میں قرآن کریم نے اپنے عام دستور کے خلاف عورت کا ذکر پہلے کیا ہے اور مرد کا بعدمیں۔یعنی یہ کہا ہے کہ زانیہ عورت اور زانی مرد کو سو سو کوڑے لگائے جائیں۔اس میں ایک نکتہ ہے جو فراموش نہیں کرنا چاہیے اور وہ یہ کہ یہ فعل پیشہ کے طور پر عورتوں میں ہی پایا جا تا ہے۔مردوں میں نہیں پایا جاتا۔مگر اس کایہ مطلب نہیں جیسا کہ بعض لوگ غلطی سے سمجھتے ہیں کہ اس سے مردوں میں عورتوں کی نسبت زیادہ نیکی اور تقویٰ کا ثبوت ملتا ہے۔بلکہ اس کی وجہ یہ ہے کہ مرد اس کو اختیار ہی نہیں کر سکتے۔صرف عورتیں ہی مالی فائدہ کے لئے اس پیشہ کو اختیار کرتی ہیں۔اسی لئے ان کا ذکر پہلے کیا گیا ہے۔اور مردوں کا اُن کے بعد۔دوسرے اس معاملہ میں عورت میں فطرۃً حیاء کا مادہ زیادہ پایا جاتا ہے بلکہ عورتوں میں ہی نہیں ہر نرو مادہ میں یہ بات پائی جاتی ہے کہ اُن میں سے جو چیز یں اثر قبول کرتی ہیں اُن میں حیاء زیادہ ہوتی ہے بہ نسبت اُن کے جو دوسروں پر اثر ڈالتی ہیں۔اثر لینے والی چیز پیچھے کو ہٹتی ہے اور اثر ڈالنے والی اُس کی طرف بڑھتی ہے اور یہ بات انسانوں اور حیوانوں میں ہی نہیں بلکہ درختوں میں بھی جو نر و مادہ کی خاصیت رکھتے ہیں پائی جاتی ہے کہ جو پودہ نر کا قائم مقام ہوتا ہے اُس میں حرکت پیدا ہوتی ہے اور وہ اُس پودے کی طرف جھکتا ہے جو مادہ کا قائم مقام ہوتا ہے۔اس علم کی تحقیق موجودہ زمانہ میں کی گئی ہے۔مگر اسلام نے اس کو پہلے سے ہی بیان کر دیا ہے۔پس عورت میں چونکہ حیاء کا مادہ نسبتاًزیادہ ہوتا ہے اور وہ طبعاً رکتی ہے اس لئے اگر اس طبعی حیاء کے باوجود کوئی عورت شرم و حیاء کو ترک کر دیتی ہے تو وہ زیادہ نفرین کی مستحق ہوتی ہے۔اسی لئے اس جگہ عورت کا ذکر پہلے کیا گیا ہے اور مرد کا بعد میں۔