تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 438 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 438

پاک دامن ہے تو مرد اُس کا خاوند کہلائےگا زنا کرنےوالا نہیں کہلا ئےگا۔اسی طرح ہر زنا کرنے والی عورت تب ہی زنا کرنے والی کہلا سکتی ہے جبکہ وہ کسی غیر محرم سے صحبت کر رہی ہو۔اور یہ سیدھی بات ہے کہ جو عورت کسی غیر محرم مرد سے صحبت کرےگی وہ زانیہ ہی کہلائے گی۔ورنہ اگر وہ پاک دامن ہوگی تو جب بھی وہ مجامعت کرےگی اپنے خاوند سے کرےگی۔غرض اس آیت میں یہ بتا یا گیا ہے کہ زانیہ یا زانی کا نام اس وقت ملتا ہے جبکہ بالمقابل شخص کو بھی یہی نام حاصل ہو۔ورنہ مومن آدمی جب بھی مجامعت کرے گا۔اُس کا بالمقابل فرد اس کی بیوی ہوگی۔پس مومن مرد یا مومن عورت کے لئے زانیہ کا لفظ استعمال ہی نہیں ہو سکتا اور چونکہ ہم نے اس جگہ نکاح کے معنے صحبت کے کئے ہیں اس لئے وَ حُرِّمَ ذٰلِكَ عَلَى الْمُؤْمِنِيْنَ کے لازماً یہ معنے ہوںگے کہ مومنوں کے لئے زانی کا لفظ استعمال کرنا حرام ہے۔یہ معنے نہیں ہوںگے کہ وہ زنا نہیں کرتے کیونکہ زنا تو کوئی مومن کرتا ہی نہیں۔پھر اس آیت میں ایک سوال کا بھی جواب دیا گیا ہے۔چونکہ پچھلی آیت میں یہ حکم دیا گیا تھا کہ زانیہ عورت اور زانی مرد دونوں کو کوڑے مارے جائیں۔اس لئے کوئی شخص کہہ سکتا تھا کہ کیوں صرف مرد کو ہی نہ مارا جائے عورت تو اثر قبول کرنے والی ہے۔جب اثر ڈالنے والا اس کی طرف جھکے گا تو وہ مجبوراً اثر قبول کرے گی۔اس لئے فرمایا کہ یہ فعل دونوں کی رضا مندی سے ہوتا ہے۔زانی مرد زانیہ عورت کے ساتھ اُس کی مرضی کے بغیر تعلق پیدا نہیں کر سکتا۔اور زانیہ عورت زانی مرد کے ساتھ اُس کی مرضی کے بغیر تعلق پیدا نہیں کر سکتی۔اور مومنوں کے لئے یہ بات قطعاً حرام ہے۔اس وجہ سے زانی مرد اور زانیہ عورت دونوں کے لئے شریعت نے سز ا تجویز کی ہے۔وَ الَّذِيْنَ يَرْمُوْنَ الْمُحْصَنٰتِ ثُمَّ لَمْ يَاْتُوْا بِاَرْبَعَةِ اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر الزام لگاتے ہیں پھر چار گواہ مہیا نہیں کر تے تو( ان کی سزا یہ ہے کہ) شُهَدَآءَ فَاجْلِدُوْهُمْ ثَمٰنِيْنَ جَلْدَةً وَّ لَا تَقْبَلُوْا لَهُمْ اُن کو اَسّی کوڑے لگائواور اُن کی گواہی کبھی قبول نہ کرو۔اور وہ لوگ( اپنے اس فعل کی وجہ سے شریعت اسلامی