تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 435 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 435

ٹوٹنے یا اس کو نقصان پہنچنے کا کوئی ڈر نہ ہو۔اورنہ ایسا ہونا چاہیے کہ اس کی ضرب سے انسان پر موت وارد ہو نے کا کوئی امکان ہو۔یہ بھی یاد رکھنا چاہیے کہ اللہ تعالیٰ نے اس آیت میں صرف زانی یا زانیہ کا لفظ نہیں رکھا بلکہ اَلزَّانِيَةُ وَ الزَّانِيْ کے الفاظ رکھے ہیں یعنی الف لام کی زیادتی کی گئی ہے اور الف لام کی زیادتی ہمیشہ معنوں میں تخصیص پیدا کردیا کرتی ہے۔پس اس جگہ اَلزَّانِيَةُ وَ الزَّانِيْ سے صرف ایسا ہی شخص مراد ہو سکتا ہے جو یاتو زنا کا عادی ہو یا علی الاعلان ایسا فعل کرتا ہو۔اور اتنا نڈر اور بےباک ہو گیا ہو کہ وہ اس بات کی ذرا بھی پرواہ نہ کرتا ہو کہ کوئی اُسے دیکھ رہا ہے یا نہیں یا اُس میں شہوت کا مادہ تو نہ ہو اور پھر بھی وہ زناکرتا ہو جیسے بوڑھا مرد یا بوڑھی عورت۔ان معنوں کے لحاظ سے اس حدیث کی بھی ایک رنگ میں تصدیق ہو جاتی ہے جس میں یہ ذکر آتا ہے کہ اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ اِذَا زَنَیَا فَارْجُمُوْھُمَا اَلْبَتَّۃَ ایک بڑی عمر والا مرد یا ایک بڑی عمر والی عورت اگر زنا کریں تو ان کو پتھر مار مار کر مار دو۔گویا اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ کے معنے اَلشَّیْخُ وَالشَّیْخَۃُ کے ہی ہیں۔معلوم ہوتا ہے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے انہی خیالات کا اظہار فرمایا تھا۔مگر حضر ت عمر ؓ نے اس کو غلطی سے قرآنی آیت سمجھ لیا۔لیکن بوڑھے مرد اور بوڑھی عورت کے لئے بھی قرآن کریم نے فَاجْلِدُوْا كُلَّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا مِائَةَ جَلْدَةٍ کا ہی حکم دیا ہے رجم کا نہیں۔یہی وجہ ہے کہ جب حضرت عمر ؓ نے کہاکہ یا رسول اللہ یہ بات مجھے لکھ دیجئیے تو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت عمر ؓ کی اس بات کو ناپسند فرمایا۔کیونکہ یہ قرآنی حکم کے خلاف تھی۔پس اَلزَّانِیَۃُ وَالزَّانِیْ سے کامل زانی مراد ہے جو یا توزنا کا عادی ہو یا اتنا نڈر ہوگیا ہو کہ وہ کھلے بندوں اس فعل کا ارتکاب کرتا ہو۔یا محصن یعنی شادی شدہ ہو یا بڈھا ہو اور پھر بھی وہ زنا کرتا ہو۔ایسے تمام لوگوں کے متعلق قرآن کریم یہی کہتا ہے کہ اُن کا جرم ثابت ہونے پر انہیںسو سو کوڑے لگائو۔وَ لَا تَاْخُذْكُمْ بِهِمَا رَاْفَةٌ فِيْ دِيْنِ اللّٰهِ۔یہ امر یاد رکھنا چاہیے کہ خدا تعالیٰ کی طرف سے دو قسم کی سزائیں آتی ہیں۔ایک تو وہ سزائیں ہوتی ہیں جو قوانین نیچر کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہوتی ہیں اور ایک ایسی سزائیں ہوتی ہیںجو قوانین شریعت کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے انسان کو برداشت کرنی پڑتی ہیں۔جو سزائیں قوانین نیچر کی خلاف ورزی کا نتیجہ ہوتی ہیں ان میں رحم کرنا اور ہمدردی سے پیش آنا جائز ہوتا ہے۔لیکن وہ سزائیں جو قوانین شریعت کی خلاف ورزی کرنے کی وجہ سے دی جائیں اُن میں رحم کرنا جائز نہیں ہوتا کیونکہ خدا تعالیٰ کی طرف سے سزا اُسی صورت میں آتی ہے جبکہ بندہ اس کا مستحق ہو جاتا ہے۔اور ایسی حالت میں رحم کرنے یعنی مجرم کو اس سزا سے بچانے کا یہ مفہوم ہو گا کہ انسان خدا تعالیٰ کے فیصلہ کو جھٹلانے کی کوشش کرے۔