تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 434 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 434

شدید بیمار ہو گئے تو شیطان نے اُن کی بیوی کو ورغلایا اور اُسے ایک بکری کا بچہ دے کر کہا کہ اگر ایوبؑ میرے نام پر اس کو ذبح کردیں تو یہ اچھے ہو جائیں گے۔بیوی نے حضرت ایوبؑ سے اس کا ذکر کیا۔تو انہوں نے اُسے ڈانٹا اور کہا کہ یہ تو خدا کا دشمن ہے تم اس کے فریب میں کیوں آئیں ؟ اور پھر قسم کھائی کہ اگر اللہ تعالیٰ نے مجھے شفادی تو میں اپنی بیوی کو اس غلطی پر اُسے سو کوڑوں کی سزا دوںگا۔مگر جب اچھے ہو گئے تو حضرت ایوب ؑ نے اپنی قسم کو اس طرح پورا کیا کہ سو تیلیاں اکٹھی کر کے اُن کو مار دیں ( تفسیر خازن زیر آیت ھٰذا) اگر یہ روایتیں درست ہیں تو پھر زانی اور زانیہ کو بھی حضرت ایوبؑ کی طرح ایک جھاڑو اٹھا کر مار دینا چاہیے جس میں سو تیلیاں ہوں اور سمجھ لینا چاہیے کہ سزا پوری ہوگئی۔اور جب سو کوڑے بھی نہ رہے بلکہ ایک جھاڑو مار دینا بھی جائز ہو گیا تو رجم کہاں باقی رہا۔بے شک ہم مفسرین کی ان روایات سے متفق نہیں لیکن جو علماء اس قسم کی روایات کو تسلیم کرتے ہیں ان پر واقعہ ٔ ایوبؑ بھی ایک حجت ہے کیونکہ جب وہاں وہ یہ تسلیم کرتے ہیں کہ حضرت ایوبؑ نے سو کوڑوں کی بجائے سو تیلیاں مار کر قسم پوری کر لی تو پھر یہاں بھی رجم پر کیوں زور دیتے ہیں۔یہاں بھی انہیں چاہیے کہ سو تیلیوں والا جھاڑو اٹھا کر زانیہ اور زانی کو ایک دفعہ مار دیں اور سمجھ لیں کہ سزا پوری ہو گئی۔بہر حال رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا بعض لوگوں کو رجم کرنا محض یہودی تعلیم کی اتباع میں تھا۔لیکن اس کے بعد جب قرآن کریم میں واضح حکم آگیا تو پہلا حکم بھی بدل گیا اور وہی حکم آج بھی موجود ہے جو قرآن کریم میں بیان ہوا ہے یعنی اگر کسی کی نسبت زنا کا جرم ان شرائط کے ساتھ ثابت ہو جائے جو قرآن کریم میں بیان ہوئے ہیں تو اسے سو کوڑے لگائے جائیں۔کوڑوں کی تشریح قرآن کریم نے بیان نہیں فرمائی لیکن قرآنی الفاظ سے یہ ثابت ہے کہ کوڑا ایسی طرز پر مارا جانا چاہیے کہ جسم کو اس کی ضرب محسوس ہو۔کیونکہ جَلَدَہٗ بِالسِّیَاطِ کے معنے ہوتے ہیں ضَرَبَہٗ بِھَا وَاَصَابَ جِلْدَہٗ ( اقرب) یعنی کوڑے سے اس طرز پر مارا کہ جلد تک اُس کا اثر پہنچا۔پس کسی چیز سے جس کی ضرب اتنی ہو کہ جسم محسوس کرے سزا دینا اور لوگوں کے سامنے سزا دینا اس حکم سے ثابت ہوتا ہے۔خواہ وہ کوڑا چمڑے کا نہ ہو بلکہ کپڑے کا ہو۔یہ ضروری نہیں کہ وہ کوڑا وہی ہو جیسا کہ آجکل عدالتیں استعمال کرتی ہیں اور جس کی ضرب اگر سو کی حد تک پہنچے تو انسان غالباً مر جائے۔سورئہ نساء کی آیت نے ثابت کر دیا ہے کہ ایسے کوڑے مار نےناجائز ہیں جن کے نتیجے میں موت وارد ہو جائےایسے ہی کوڑے مارے جا سکتے ہیں اورا تنی ہی شدت سے مارے جا سکتے ہیں جس سے انسان پر موت وارد ہونےکا کوئی امکان نہ ہو۔یعنی نہ تو کوڑا ایسا ہو نا چاہیے جس سے ہڈی ٹوٹ جائے کیونکہ حل لغات میں بتا یا جا چکا ہے کہ جَلَدَہٗ بِا لسِّیَاطِ کے معنوں میں یہ بات داخل ہے کہ صرف جلد کو تکلیف پہنچے ہڈی کے