تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 414
رَّبِّ اغْفِرْ وَ ارْحَمْ وَ اَنْتَ خَيْرُ الرّٰحِمِيْنَؒ۰۰۱۱۹ اور تو سب سے اچھا رحم کرنے والا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔جو شخص اللہ تعالیٰ کے سوا کسی اور کو اپنا معبود سمجھ کر اپنی مدد کے لئے پکارتا ہے جس کی اس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کو اپنے رب کے سامنے حساب دینا پڑے گا اور ایسے کافر لوگ کبھی اپنی مراد نہیں پائیں گے۔یعنی وہ کبھی بھی مسلمانوں پر غالب نہیں آئیں گے بلکہ مسلمان ہی اُن پر غالب رہیں گے۔مگر اس مقصد کو پورا کرنے کے لئے تُو اپنے رب سے بخشش اور رحم مانگتا رہا کر اور یہ کہتا رہا کر کہ الٰہی تو ہی سب سے اچھا رحم کرنے والا ہے۔یعنی اسلام کی اشاعت کے لئے سب سے کار گر حربہ یہی ہے کہ تم اللہ تعالیٰ کے حضور جھک کر اُس سے دعائیں کرتے رہو کہ وہ تمہاری کمزوریوں کو دور فرمائے۔تمہیں اپنے رحم اور کرم سے حصہ دے اور تمہیں ایسا روحانی غلبہ عطا کرے کہ تم لوگوں کے خیالات اور اُن کے افکار اور ان کے رجحانات میں ایک نیک تغیر پیدا کر سکو اور انہیں توحید کی طرف کھینچ کر ایک نئے تمدن کی بنیاد رکھ سکو۔تاکہ اللہ تعالیٰ کے جلال اور اس کے جمال کا اظہار ہو اور خدا تعالیٰ کی بادشاہت جس طرح آسمان پر ہے زمین پر بھی قائم ہو۔یہ وہ حربہ ہے جسے ہر شخص استعمال کرسکتا ہے۔یہاں تک کہ چارپائیوں پر پڑے ہوئے کمزور اور بیمار جن میں چلنے کی تاب نہیں۔وہ بھی اپنے رب کا دروازہ کھٹکھٹا کر اس کی نصرت کو کھینچ سکتے ہیں۔قید وبند میں مبتلا انسان جو زندان کی چار دیواریوں میں مقید ہیں وہ بھی اس حربہ کو استعمال کر کے خدمتِ دین کا ثواب لے سکتے ہیں اور نادار اور غریب انسان جن کے دل اس حسرت سے بے تاب رہتے ہیں کہ کاش اُن کے پاس بھی روپیہ ہوتااور وہ بھی دین کی اشاعت میں مدد دے سکتے وہ بھی اس ذریعہ سے اسلام کی کامیابی کو قریب تر لا کر ثواب میں دوسروں کے شریک ہو سکتے ہیں۔ضرورت صرف اس بات کی ہے کہ انسان اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں جھکے اور اس سے نہایت عجزو انکسار سے یہ دعا کرتا رہے کہ رَبِّ اغْفِرْ وَارْحَمْ وَاَنْتَ خَیْرُ الرّٰحِمِیْنَ۔ڑ ڑ ڑ ڑ