تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 415 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 415

سُوْرَۃُ النُّوْرِ مَدَنِیَّۃٌ سورۃ نور۔یہ سورۃ مدنی ہے وَھِیَ مَعَ الْبَسْمَلَۃِ خَمْسٌ وَّ سِتُّوْنَ اٰیَۃً وَّتِسْعَۃُ رُکُوْعَاتٍ اور بسم اللہ سمیت اس کی پینسٹھ (۶۵) آیتیں ہیں اور نو رکوع ہیں۔۱؎ ۱؎ سورۃ النور بغیر اختلاف کے مدنی ہے۔نہ مسلمان اس بارہ میں اختلاف کرتے ہیں اور نہ عیسائی اس کے متعلق اختلاف کرتے ہیں۔(قرطبی و تفسیر القرآن از ویری)اور اس کی پینسٹھ(۶۵) آیتیں ہیں یعنی بسم اللہ کو شامل کرکے۔بسم اللہ کو نکا ل کر چونسٹھ(۶۴) بنتی ہیں۔سورۃ نور کا پہلی سورۃ سے تعلق اس سورۃ کا پہلی سورۃ سے قریبی تعلق یہ ہے کہ سورۂ مومنون کے آخر میں یہ بتایا گیا تھا کہ مسلمانوں میں ایسے لوگ پیدا ہوںگے جو روحانیت میں ترقی کر کے خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کر سکیں گے۔اب اس سورۃ میں وہ طریق بتائے گئے ہیں جن پر چل کر خدا تعالیٰ کی مدد حاصل کی جاتی ہے۔اور بتایا ہے کہ عبادت اور تقویٰ کی راہوں کے علاوہ خدا تعالیٰ کی نصرت حاصل کرنے کے ذریعہ قوم کی اخلاقی حالت کی درستی اور عائلی اور قومی تنظیم بھی ہوتے ہیں۔چنانچہ اس سورۃ کو اخلاقی حالت کی درستی کی تدابیر سے ہی شروع کیا گیا ہے اور مرد و عورت کے تعلقات کی درستی اور اصلاح کی طرف توجہ دلائی گئی ہے گو یا بتا یا ہے کہ اسلام کے مخالفوں کی نہ صرف مذہبی حالت گر گئی ہے بلکہ اخلاقی حالت بھی گر گئی ہے۔اس لئے وہ کامیاب نہیں ہو سکتے (خصوصاً مسیحی) لیکن مسلمانوں کی یہ دونوں حالتیں درست ہو جائیں گی اس لئے وہ کامیاب ہو جائیں گے۔درحقیقت اس مضمون کا بیج سورۂ مومنون میں موجود تھا۔چنانچہ سورۂ مومنون میں کامیاب ہو نےوالے مومنوں کے لئے جو امور بیان کئے گئے تھے اُن میں سے ایک لِفُرُوْجِهِمْ حٰفِظُوْنَ بھی تھا پس یوں کہناچاہیے کہ کامیاب ہونے والے مومنوں کے مضمو ن کو اس سورۃ میں زیادہ تفصیل سے بیان کیا گیا ہے۔ضمنی طور پر ان دونوں سورتوں کے مضمون سے یہ امر بھی نکلتا ہے کہ لوگوں میں جو یہ خیال پایا جاتا ہے کہ کسی سچے مذہب کو محض مان لینے سے کامیابی ہو سکتی ہے۔یا یہ کہ اس طرح وہ کامیابی ہمیشہ کے لئے قائم بھی رکھی جا سکتی ہے یہ غلط ہے۔کامیابی کے لئے ضروری ہے کہ عقیدہ کے ساتھ ذہن افکار اور اخلاق کی اصلاح بھی کی جائے اور افراد اور قوم کے تعلقات کی بنیاد بھی صلاحیت اور رشد پر رکھی جائے۔اور قومی تنظیم کو خاص اہمیت دی جائے اور افراد کے حقوق پر قوم کے حقوق کو مقدم کیا جائے۔