تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 413
غرض انسا ن میں اللہ تعالیٰ نے عظیم الشان طاقتیں رکھی ہیں اور اُس کا یہ فرض مقرر کیا ہے کہ وہ اپنے آپ کو صفاتِ الٰہیہ کا مظہر بنانے کی کوشش کرے اور یہی وہ چیز ہے جس کو قائم کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ اپنے نبیوں کو بھیجتا ہے اورچاہتا ہے کہ ان کے ذریعہ دنیا میں ایک ایسی روحانی حکومت قائم کرے جس کے افراد اُنہی صفات کے مظہر ہوں جو اُس کے اندر پائی جاتی ہیں۔پس جب تک کوئی شخص ان تمام ذمہ داریوں کو سمجھ کر مذہب قبول نہیں کرتا اس وقت تک اس کا مذہب میں شامل ہونا یا نہ ہونا برابر ہوتا ہے۔وہ مسلمان ہوتا ہے اور خیال کرتا ہے کہ مسلمان ہونے کے لئے صرف اتنا ہی کافی ہے کہ لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ پڑھ لیا جائے اور وہ یہ نہیں سمجھتا کہ لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ کی تفسیر سارا قرآن ہے اور اس سارے قرآن پر عمل کئے بغیر وہ حقیقی معنوں میں مسلمان نہیں ہو سکتا۔جس طرح انسان کسی ایک عضو کا نام نہیں بلکہ انسان مجموعہ ہے ناک کان آنکھوں منہ گردن سر سینہ ہاتھ اور پائوں وغیرہ کا اور ان میں سے کوئی چیز بھی علٰیحدہ نہیں ہوسکتی۔نہ سر الگ ہو سکتا ہے۔نہ دھڑالگ ہو سکتا ہے۔نہ ہاتھ اور پائوں الگ ہو سکتے ہیں۔اسی طرح لَا اِلٰہَ اِلَّااللہُ مُحَمَّدٌ رَّسُوْلُ اللہِ ایک مفرد شے نہیں بلکہ وہ چار اعضاء روحانی کے مجموعہ کا نام ہے۔وہ الْمَلِكُ اور الْحَقُّ اور لَا اِلٰہَ اِلَّا ھُوَ اور رَبُّ الْعَرْشِ الْكَرِيْمِکے بروز کا نام ہے۔پس انسان صحیح معنوں میں اسی وقت لَا اِلٰہَ اِلَّا اللہ کہنے والا سمجھا جاسکتا ہے جب وہ رَبِّ الْعٰلَمِيْنَ۔الرَّحْمٰنِ۔الرَّحِيْمِاور مٰلِكِ يَوْمِ الدِّيْنِ کی صفات کا مظہر ہو۔اگر کوئی شخص ان صفات کو اپنے اندر پیدا نہیں کرتا تو وہ ایسا ہی ہے جیسے کوئی شخص کسی ایسی چیز کو آدمی سمجھتا رہے جس کا نہ دل ہو ، نہ دماغ ہو ، نہ ہاتھ ہوں ، نہ پائوں ہوں۔کامیابی حاصل کرنے والے وہی لوگ ہوتے ہیںجو اپنے آپ کو صفاتِ الٰہیہ کا مظہر بنا کر اپنے اندر تغیر پیدا کرتے ہیں اور اس طرح اُس مقصد کو حاصل کر لیتے ہیں جس کے لئے ان کی پیدائش معرضِ وجود میں آئی تھی۔وَ مَنْ يَّدْعُ مَعَ اللّٰهِ اِلٰهًا اٰخَرَ١ۙ لَا بُرْهَانَ لَهٗ بِهٖ١ۙ فَاِنَّمَا اور جو کوئی اللہ کے سوا کسی اور معبود کو پکارے جس کی کوئی دلیل نہیں۔تو اُس کا حساب اس کے رب کے حِسَابُهٗ عِنْدَ رَبِّهٖ١ؕ اِنَّهٗ لَا يُفْلِحُ الْكٰفِرُوْنَ۰۰۱۱۸وَ قُلْ پاس ہے۔حقیقت یہ ہے کہ کافر کبھی کامیاب نہیں ہوتے اور توکہہ دے۔اے میرے رب ! معاف کر اور رحم کر