تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 412 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 412

کی لائی ہوئی تعلیم انسان کے سامنے پیش نہ کی جائے۔جب تک اللہ تعالیٰ کی رحمت کے نظارے اُس کے سامنے نہ رکھ دئے جائیں۔جب تک ہم اُسے یہ یقین نہ دلادیں کہ یہی دنیوی زندگی کا اصل مقصود نہیں بلکہ اصل زندگی وہ ہے جب وہ مرنے کے بعد اپنے رب کے سامنے پیش کیا جائے گا۔تو خدا اُسے کہےگا کہ فَادْخُلِیْ فِیْ عِبَادِیْ وَادْخُلِیْ جَنَّتِیْ (الفجر:۳۰،۳۱)۔کہ اے میرے بندے میں نے تجھے بے انتہا انعامات دینے ہیں۔میں نے تیری روح ہمیشہ قائم رکھنی ہے۔بیشک تیری دنیوی زندگی ہزاروں مایوسیوں ہزاروں ناکامیوں اور ہزاروں بیماریوں کی آماجگاہ تھی لیکن یاد رکھ کہ وہی تیری زندگی نہیں تھی بلکہ اصل زندگی وہ ہے جو اب تجھے دیتا ہوں اور جو ہر قسم کی تکلیفوں اور ہر قسم کی ذلتوںاور ہر قسم کے تنزل سے محفوظ ہے۔آ اور میری جنت میں داخل ہو جا۔جب یہ خیال کسی کے دل میں پیدا ہو جاتا ہے۔جب وہ سمجھتا ہے کہ میری زندگی عبث نہیں بلکہ یہ ایک اور عظیم الشان زندگی کا پیش خیمہ ہے اور اصل زندگی وہی ہے جو میری موت کے بعد شروع ہو گی تو اس وقت وہ اپنے دل میں حقیقی اطمینان اور حقیقی امن محسوس کرتا ہے اور اس وقت وہ صرف اپنی پیدائش پر ہی خوش نہیں ہوتا بلکہ وہ اپنی موت پر بھی خوش ہوتا ہے کیونکہ وہ جانتا ہے کہ موت اس لئے نہیں کہ مجھے تباہ کرے بلکہ اس لئے ہے کہ وہ مجھے چھوٹی جگہ سے اُٹھا کر ایک بلند مقام پر پہنچا دے۔کیا تم نے کبھی دیکھا کہ کوئی شخص تحصیلدار سے ای۔اے۔سی ہو گیا ہو یا ڈپٹی کمشنر سے کمشنرہو گیا ہو اور وہ بجائے خوش ہونے کے رونے لگ گیا ہو۔اسی طرح مومن اپنی موت پر روتا نہیں بلکہ خوش ہوتا ہے اور سمجھتا ہے کہ مجھے انعامات ملنے کا وقت آگیا۔لیکن جو شخص روتا ہے وہ اس لئے روتا ہے کہ اس نے زندگی محض دنیوی حیات کو سمجھ رکھا تھا اور اس نے دیکھا کہ اس زندگی کا بیشتر حصہ ناکامی اور بد مزگی میں گذر گیا اور اُسے کچھ بھی لطف نہ آیا۔مگر جو شخص جانتا ہے کہ یہ دنیا کی زندگی ایک امتحان کا کمرہ ہے وہ اس کمرے سے نکلتے وقت خوشی محسوس کرتا ہے ،جس طرح وہ لڑکا جو اچھے پرچے کرکے آتا ہے خوش ہوتا ہے اسی طرح مومن جب دنیا کے امتحان کے کمرہ سے اچھے پرچے کر کے نکلتا ہے تو وہ خوش ہوتا ہے اور کہتا ہے ایک رحیم ہستی میرے سامنے ہے جس نے مجھ سے بے انتہا انعامات کا وعدہ کیا ہوا ہے۔اب میں اُس کے پاس جائوں گا اور اُس سے انعام لوں گا۔جیسے یونیورسٹی کی ڈگریاں لینے کے لئے جب طالب علم جاتے ہیں تو وہ بھڑکیلے لباس اور گائون وغیرہ پہن کر جاتے ہیں۔اسی طرح وہ مومن جو اللہ تعالیٰ کی رحمت اور اُس کے عظیم الشان فضلوں پر ایمان رکھتا ہے جب مرنے لگتا ہے تو اس کا دل خوشی سے اچھل رہا ہوتا ہے اور وہ کہتا ہے میں اپنے رب کے پاس ڈگری لینے چلا ہوں میں اپنے رب سے انعام لینے چلا ہوں۔جب تک یہ امید انسان کے دل میں پیدا نہیں ہوتی اُس وقت تک اُسے حقیقی راحت میسر نہیں آسکتی۔