تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 411
پر الزام نہیں لگانا چاہیے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف موجودہ اور آئندہ نسلوں پر احسان کیا بلکہ پہلے لوگوں پر بھی احسان کیا جو وفات پا چکے تھے اور ان کی قوموں پر بھی احسان کیا۔جب ایک یہودی کو بتادیا جائے کہ تمہارے بزرگ تمام نقائص سے پاک تھے تو اُس کی گذشتہ تاریخ کتنی صاف ہو جاتی ہے اور وہ کیسی خوشی کے ساتھ ان بزرگوں کے نمونہ پر چلنے کی کوشش کرے گا۔یہی حال عیسائیوںکا ہے اور یہی حال دوسری قوموں کا ہے۔پس رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ صرف اپنی قوم ہی کی ترقی کے راستے کھولے بلکہ دوسری قوموں کی روایات کو بھی صاف کیا اور اُن کے سامنے بھی اُن کے بزرگوں کے اعلیٰ نمونے پیش کئے جن کو اپنے سامنے رکھتے ہوئے وہ عظیم الشان ترقی کر سکتے ہیں۔پھر آپ نے ملائکہ پر بھی احسان کیا۔طرح طرح کے الزام تھے جو اُن پر لگائے جاتے تھے۔مگر اسلام نے آکر بتا یا کہ ملائکہ گناہ گار نہیں بلکہ اُن کے اندر خدا تعالیٰ نے انکار کا مادہ ہی نہیں رکھا۔انہیں جو بھی حکم ملے اُس کی وہ اطاعت کرتے ہیں (التحریم:۷)پس اُن پر کسی قسم کا الزام لگانا اور یہ کہنا کہ انہوں نے بھی فلاں گناہ کیا تھا سخت ظلم ہے۔پھر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے دنیا کے ہر گناہگار پر احسان کیا اور اُس کے دل کو خوشی سے لبریز کر دیا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی بعثت سے پہلے ساری دنیا یہ کہا کرتی تھی کہ گناہگار ہمیشہ دوزخ میں گرائے جا ئیں گے اور جو شخص ایک دفعہ جہنم میں چلا گیا وہ وہاں سے نہیں نکل سکے گا۔گویا دنیا گناہگاروں کو اللہ تعالیٰ کی رحمت سے مایوس کرتی تھی اور توبہ کا دروازہ اس پر بند کرتی تھی مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔انسان کتناہی گناہگار ہو جائے اللہ تعالیٰ اُسے معاف کرنے کے لئے تیار ہے(ترمذی ابواب الدعوات باب فضل التوبۃ)۔بے شک گناہگاروں کے گناہ بڑے ہوں مگر خدا تعالیٰ کا رحم اُس سے بھی بڑا ہے۔پس تم اس بات سے مت گھبرائو کہ تم گناہوں میں ملوث ہو تم توبہ کرو تو خدا آج بھی تمہیں معاف کرنے کے لئے تیار ہے۔کتنی امید ہے جو گناہگار وں کے دلوں میں رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پیدا کر دی۔کتنی امنگ ہے جو آپ نے ان کے قلوب میں موجزن کر دی۔غرض رب العالمین کی صفت اعلیٰ درجہ کے کمال کے ساتھ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم میں ظاہر ہوئی اور آپ سے اُتر کر امتِ محمدیہ کے اور بہت سے اولیا اور صلحاء میں ظاہر ہوئی اور ظاہر ہوتی رہتی ہے۔غرض یہ چاروں صفات جو اللہ تعالیٰ نے بیان کی ہیں انہی کے ماتحت دنیا میں امن قائم رہ سکتا ہے۔اگر قانون نہ ہو اور پھر اس قانون کا نفاذ نہ ہو تو ہر گز امن قائم نہیں ہو سکتا۔اسی طرح اگر صحیح رنگ میں تربیت نہ ہو اور اہلی اور عائلی زندگی درست نہ ہو تب بھی امن مفقود ہو تا ہے۔امن کے قیام کا صرف یہی ذریعہ ہے کہ انسان اس حقیقت کو سمجھ لے کہ وہ دنیا میں کیوں پیدا کیا گیا ہے۔اور یہ حقیقت اُس وقت تک سمجھ میں نہیں آسکتی جب تک محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم