تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 37
اَوَ لَمْ يَرَ الَّذِيْنَ كَفَرُوْۤا اَنَّ السَّمٰوٰتِ وَ الْاَرْضَ كَانَتَا کیا کفار نے یہ نہیںدیکھا کہ آسمان اور زمین دونوں بند تھے پس ہم نے ان کو کھول دیا۔رَتْقًا فَفَتَقْنٰهُمَا١ؕ وَ جَعَلْنَا مِنَ الْمَآءِ كُلَّ شَيْءٍ حَيٍّ١ؕ اور ہم نے پانی سے ہرچیز کو زندہ کیا اَفَلَا يُؤْمِنُوْنَ۰۰۳۱ پس کیا وہ ایمان نہیں لاتے ؟ حلّ لُغَات۔رَتْقًارَتَقَہٗ رَتْقًا کے معنے ہیں سَدَّہُ وَ اَغْلَقَہٗ اس کو بند کردیا (اقرب) اسی طرح یہ لفظ فَتْقٌ کے خلاف استعمال کیا جاتاہے اور فَتَقَ الشَّیْءَ کے معنے ہوتے ہیں شَقَّہُ کسی چیز کو پھاڑ دیا اور فَتَقَ الثَّوْبَ کے معنے ہوتے ہیں نَقَضَ خِیَا طَتَہٗ حَتی فَصَلَ بَعْضُہٗ مِنْ بَعْضٍ کہ کپڑے کی سیون کو کھول دیا اور وہ علیحدہ ہوکر مختلف حصے ہوگیا۔(اقرب ) مفردات میں ہے الرَّتْقُ الضَّمُّ وَ الْاِلْتِحَامُ یعنی رتق کے معنے ملنے اور اکٹھے ہونےکے ہیں اور کَانَتَارَتْقًا کے معنے ہیں مُنْضَمَّتَیْنِ دونوں ملے ہوئے تھے۔(مفردات ) تفسیر۔فرماتا ہے کیا ان کافروںکو معلوم نہیں کہ آسمان اور زمین جڑے ہوئے تھے پھر ہم نے ان کو چیر کر الگ کردیا اس میںپیدائش عالم کی ایک ایسی حقیقت بیان کی گئی ہے جو اس صدی سے پہلے لوگوں کو معلوم نہیں تھی اور وہ یہ ہے کہ جب کوئی کرہ فلکی تیار ہوتاہے تو اس کی یہ صورت ہوتی ہے کہ ذرات کا ایک وسیع ڈھیر فضامیںجمع ہو جاتا ہے۔آہستہ آہستہ وہ سمٹنا شروع ہو جاتا ہے۔جب اس کے درمیان ذرات کچھ زیادہ سمٹ جاتے ہیںتو وہ چکر کھانے لگ جاتے ہیںاور ان کے ارد گردکامادہ دھکا کھاکر دور جاپڑتا ہے اسی طرح پیدا ہونے ولے نظام ہائے فلکی میںسے ایک نظام شمسی ہے جس میںہماراکرہ ار ض واقع ہے۔نظام شمسی کے عالم وجود میں آنے کے متعلق جتنے بھی نظریات سائینسدانوں نے آج تک پیش کئے ہیں ان میں کم وبیش اس حقیقت کااقرار موجود ہے کہ کرہ ارض اپنی موجودہ شکل سے پہلے سورج یاسورج جیسے ایک ستارے کا حصہ تھا۔تازہ ترین نظریہ جس کی تصریح فریڈ ہائل (کیمبرج یونیورسٹی ) نے کی ہے یہ ہے کہ یہ ستارہ ہمارے سورج کاہمراہی ایک SUPER NOVA تھا اور اس کے پھٹنے سے سیارے عالم وجود میںآئے حتٰی کہ زمین ایک علیحدہ وجود کی شکل میںظاہر ہوئی زمین میںسے بعد میںپانی کے بخارات