تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 36
میںسزا نہیں ملی آخرت میںملے گی کیونکہ ان کے خدائی کے دعویٰ کا جھوٹ ہونا بالبداہت ظاہر تھا۔ہے تو ذیل کا واقعہ لطیفہ لیکن چونکہ اس سے حقیقت روشن ہوجاتی ہے میںاس کو بیان کردیتاہوں۔کہتے ہیں کسی سائیں فقیر نے خدائی کا دعویٰ کیا چند چیلے بنالئے جو ہروقت اس کے گرد بیٹھے رہتے تھے۔باری باری شہر میں جاکر بھیک مانگ لاتے تھے اور خداصاحب اور ان کے چیلے خوب پرلطف غذائیںاڑاتے تھے۔ایک مومن زمیندار ہمسایہ میں رہتاتھا اس کو غصہ چڑھتاتھا مگر مشٹنڈے چیلوں کی وجہ سے کچھ نہ کرسکتاتھا۔اور ہر وقت موقعہ کی انتظار میں رہتا تھا ایک دن شاید مانگنے کاپروگرام دُور کا تھا۔اس لئے سارے چیلے اکٹھے اپنے خدا کو اکیلا چھوڑ کرمانگنے کے لئے چلے گئے۔زمیندار کو موقعہ ہاتھ آیا بڑے ادب سے جاکر اس فقیرکے آگے جاکر بیٹھ گیا اور اٹھ کر اس کی گردن پکڑلی اور زور سے ایک تھپڑ اس کے منہ پر مارا اور کہامیرے باپ کو تونے ماراتھا۔آج میرے قابو آیاہے پھرکہا میری ماںکو تونے ماراتھا پھر ایک اور تھپڑمارا پھر کہامیرے فلاں بیٹے کو تونے مارا تھا اور زور سے ایک اور تھپڑ مارا پھر ایک اور بیٹے کانام لیا اورکہا۔میرے اس بیٹے کو بھی تونے مارا تھا اور ایک اور تھپڑ مارا اسی طرح سب رشتہ داروں اور دوستوں کانام لیتاگیا اور ہر ایک کانام لے لے کر ایسے زور سے تھپڑ مارتا تھا کہ آواز گونج جاتی تھی اور کہتاجاتا تھا کہ میں تو بیس سال سے تیر امنتظر تھا۔آج تو میرے قابو چڑھاہے میںتجھے کبھی نہیںچھوڑوں گا۔آخر ڈرکر خداکے مدعی فقیر نے گھٹنے ٹیک دیئے اور بولا میری توبہ میںکوئی خدانہیں۔اب دیکھو خدائی کے دعویٰ کاپول کتنی جلدی کھل گیا اگرصرف نبوت کا دعویٰ ہوتاتو ہر تھپڑ پر کہتامیں تو آدمی رسول ہوں میںنے تیرے رشتہ داروں کو کس طرح مارنا تھا وہ تو خدا نے مارے ہیں بلکہ کہتاکہ پہلے نبیوں کو بھی لوگوںنے دکھ دیئے ہیںتو مجھے دکھ دے کر میری نبوت ثابت کررہا ہے۔پس حقیقت یہ ہے کہ جھوٹے مدعی رسالت کے جھوٹ کو خدا ہی ظاہر کرتا ہے اس لئے آسمانی نشانوں سے اسے تباہ کیا جاتاہے اور بہت جلد تباہ کیا جاتاہے لیکن جھوٹے مدعی الوہیت کو آسمانی نشانوں سے تباہ کرنے کی ضرورت نہیںہوتی۔ہر روز جب وہ کھاناکھاتاہے ہر روز جب وہ پانی پیتاہے تو ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ خدانہیںہر روز جب وہ سوتا ہے۔پاخانہ پیشاب کو جاتاہے تو ظاہر ہو جاتا ہے کہ خدانہیںجب و ہ شادی کرتاہے اور بچہ ہو جاتا ہے تو ظاہر ہو جاتا ہے کہ وہ خدا نہیںاس کے زمانہ میں کوئی الّو یاگدھاہی اس کو خدا مان سکتاہے۔جیساکہ بہاء اللہ کے اتباع۔لیکن اس کی موت کے بعد اس کی تعلیم یا اس کے آنے والے مامور اس کی خدائی کا پرد ہ چاک کردیتے ہیں جیسے مسیح ؑ کے اپنے اقوال اور تاریخ اس کی خدائی کا پردہ چاک کررہے ہیں۔