تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 35 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 35

یرمیاہ باب ۷ آیت ۱۶میں بھی آتاہے۔’’تو ان لوگوں کے لئے دعا نہ کر اور ان کے واسطے آواز بلند نہ کر اور مجھ سے منت اور شفاعت نہ کر کیونکہ میںتیری نہ سنو ںگا۔‘‘ پس بخشش کسی انسان کے اختیار میں نہیں بلکہ صرف خدا تعالیٰ کے اختیار میںہے۔وَ مَنْ يَّقُلْ مِنْهُمْ اِنِّيْۤ اِلٰهٌ مِّنْ دُوْنِهٖ فَذٰلِكَ نَجْزِيْهِ اور جو بھی ان میںسے یہ کہے کہ میں خداکے سوا معبود ہوں ہم اس کو جہنم میں ڈالیں گے اور ہم ظالموں کو ایسا جَهَنَّمَ١ؕ كَذٰلِكَ نَجْزِي الظّٰلِمِيْنَؒ۰۰۳۰ ہی بدلہ دیا کرتے ہیں۔تفسیر۔فرماتا ہے کہ انسان کے لئے خدائی کادعویٰ اتناباطل ہے کہ جہاں افتراء اور تکذیب کی سزا اس دنیا میں بھی دی جاتی ہے وہاں خدائی کے دعویٰ کی سزا اس دنیامیں نہیں دی جاتی بلکہ اگلے جہان میں دی جاتی ہے۔اور فرماتا ہے کہ اس قسم کے ظالموںکو ہم اس طرح سزادیاکرتے ہیں یعنی اگلے جہان میں۔اس آیت میںجواب ہے ان لوگوں کاجوکہتے ہیںکہ فلاں شخص الوہیت کامدعی تھا مگر پھراسے دنیا میںکیوں سزا نہ ملی۔نبوت کادعویٰ کرنے والوں کے متعلق اسی جہان میں سزا کاوعدہ ہے۔جیسا کہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لَوْ تَقَوَّلَ عَلَيْنَا بَعْضَ الْاَقَاوِيْل۔لَاَخَذْنَا مِنْهُ بِالْيَمِيْنِ۔ثُمَّ لَقَطَعْنَا مِنْهُ الْوَتِيْنَ(الحاقۃ :۴۵ تا ۴۷) یعنی اگر یہ رسول ہم پر افتراء کرتااورکوئی بات اپنی طرف سے بناکر ہماری طرف منسوب کردیتاتو ہم اس کوداہنے ہاتھ سے پکڑ لیتے اور اس کی رگ جان کاٹ دیتے یعنی اس کوتباہ کردیتے لیکن خدائی کادعویٰ کرنے والے کے متعلق فرماتا ہے فَذٰلِكَ نَجْزِيْهِ جَهَنَّمَ اس کو اس دنیا میںسز ادینے کی ضرورت نہیں اس کو ہم اگلے جہان میںجہنم میں ڈالیں گے اس میںحکمت یہ ہے کہ جھوٹانبی چونکہ سچے نبیو ںکی طرح انسان ہی ہوتاہے لوگوں کو شبہ پڑ سکتاہے کہ کہیںیہ سچانہ ہو اس لئے اس کو فوراً سزادینے کی ضرورت ہوتی ہے تاکہ لوگوں پر حق کھل جائے لیکن خدائی کادعویٰ کرنے والا کھاتاپیتااور سوتاہے جو خدائی کے منافی ہے اس لئے اس کے دعویٰ سے دھوکا کوئی الّو ہی کھاسکتاہے پس اس کافریب کھولنے کے لئے دنیامیںسزادینے کی ضرورت نہیں ہوتی اگلے جہان کی سزاہی کافی ہے یہی وجہ ہے کہ بہاء اللہ وغیرہ جو خدائی کے مدعی تھے ان کو اس دنیا