تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 392 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 392

طرف سے آسکتے ہیں۔پھر فرماتا ہے تم ان لوگوں سے پوچھو کہ تمام عالم کی بادشاہت کس کے ہاتھ میں نظر آتی ہے اور وہ کون ہے کہ جب دوسروں کی سزا سے کوئی بھاگ کر اُس کے پاس آتا ہے تو وہ اُسے پناہ دیتا ہے۔لیکن جب وہ کسی کو سزا دے تو اُس کی سزا سے کوئی بچا نےوالا نہیں ہوتا۔وہ یہی جواب دیں گے کہ اللہ جب وہ یہ جواب دیں تو تُو انہیں کہہ کہ پھر تمہاری عقل کیوں ماری گئی ہے اور تم فریب دے کر کدھر لے جائے جا رہے ہو۔یعنی جب ہدایت کے اتنے دروازے تمہارے لئے کھلے ہیں تو پھر شیطان تم کوکس دروازہ سے دھوکا دے دیتا ہے کہ تم اس بات کے جاننے کے باوجود شر ک کررہے ہو۔قرآن تو سچائی یعنی توحید کی تعلیم دیتا ہے مگر وہ لوگ جھوٹ بولتے ہیں یعنی مشرکانہ باتیں کرتے ہیں۔حالانکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے لئے کبھی کوئی بیٹا تجویز نہیں کیا اور کبھی بھی اُس کے ساتھ کوئی اور معبود نہیں ہوا۔اگر ایسا ہوتا تو ہر معبود اپنی مخلوق اپنے ساتھ لے جاتا اور اپنی بڑائی دوسرے پر ثابت کرنے کی کوشش کرتا لیکن ایسا کبھی نہیں ہوا۔دنیا میں ایک ہی قانون جاری رہا ہے۔پس جو کچھ یہ مشرک کہتے ہیں خدا تعالیٰ اس سے پاک ہے۔وہ غائب اور حاضر کو جانتا ہے اور خواہ ظاہری تغّیرات ہوں یا باطنی سب پر ایک قسم کا قانون جاری ہونا بتاتا ہے کہ مشرک جھوٹے ہیں۔اگر ایک سے زیادہ خدا ہوتے تو دو صورتوں میں سے ایک صورت ضروری تھی۔یا تو وہ کسی ایک خدا کی اطاعت کرتے اور اس کے احکام میں کوئی دخل نہ دیتے مگر اس صورت میں دوسرے خدائوں کا ہونا یا نہ ہونا بالکل برابر ہوتا اور یہ اعتراض واقعہ ہوتا کہ جب ایک خدا سب کام کر رہا ہے تو باقی خدائوں کی کیا ضرورت ہے ؟ اور یا پھر دوسری صورت یہ ہو سکتی تھی کہ ایک کے علاوہ جس قدر خدا ہوتے وہ اپنا الگ الگ نظام جاری کرتے۔مگر اس صورت میں یہ ضروری تھا کہ نظامِ عالم میں اختلاف نظر آتا لیکن چونکہ دنیا میں جو نیچر کا قانون ہمیں دکھائی دیتا ہے وہ لاکھوں بلکہ کروڑوں سال سے ایک ہی شکل میں چلا آرہا ہے اور اس میں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوئی۔اس لئے معلوم ہوا کہ اس کا رخانۂ عالم میں صرف ایک خدا کا وجود ہی کا م کررہا ہے۔کو ئی دوسرا اُس کے ساتھ شریک نہیں۔اس جگہ عالم الغیب و الشہادۃ کہہ کر مسیح کی خدائی کو بھی رّد کیا گیا ہے اور بتایا گیا ہے کہ خدا کے لئے عالم الغیب ہونا ضروری ہے۔مگر مسیح تو خود کہتا ہے کہ ’’ اُس دن یا اس گھڑی کی بابت کوئی نہیں جانتا۔نہ آسمان کے فرشتے نہ بیٹا مگر باپ۔‘‘ ( مرقس باب ۱۳ آیت ۳۲) پس جبکہ وہ علمِ غیب ہی نہیں رکھتا تو اُسے خدا قرار دینا کس طرح درست ہو سکتا ہے۔