تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 391
مَلَكُوْتُ كُلِّ شَيْءٍ وَّ هُوَ يُجِيْرُ وَ لَا يُجَارُ عَلَيْهِ اِنْ میںہر چیز کی بادشاہت ہے اور وہ( سب کو) پناہ دیتا ہے ہاں اُس کے عذاب کے خلاف کوئی دوسرا پناہ نہیں دے سکتا كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۸۹سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ فَاَنّٰى اگر تم جانتے ہو (تو اس کو سمجھ سکتے ہو)۔وہ (اوپر کا سوال سن کر) فوراً کہیں گے۔اللہ کے( قبضہ میں) اس پر تو کہہ دے تُسْحَرُوْنَ۰۰۹۰بَلْ اَتَيْنٰهُمْ بِالْحَقِّ وَ اِنَّهُمْ لَكٰذِبُوْنَ۰۰۹۱ کہ پھر تمہیں دھوکا دےکر کدھر لے جایا جا رہا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ ہم اُن کے پاس حق لائے ہیں اور وہ مَا اتَّخَذَ اللّٰهُ مِنْ وَّلَدٍ وَّ مَا كَانَ مَعَهٗ مِنْ اِلٰهٍ اِذًا یقیناً جھوٹے ہیں۔اللہ (تعالیٰ) نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا اور اُ س کے ساتھ کوئی معبود نہیں (اگر ایسا ہوتا) تو ہر معبود لَّذَهَبَ كُلُّ اِلٰهٍۭ بِمَا خَلَقَ وَ لَعَلَا بَعْضُهُمْ عَلٰى بَعْضٍ١ؕ اپنی پیدا کی ہوئی اشیاء کو الگ کرکے لے جاتا۔اور ان( معبودوں) میں سے بعض بعض پر ہلّہ بول دیتے۔سُبْحٰنَ اللّٰهِ عَمَّا يَصِفُوْنَۙ۰۰۹۲عٰلِمِ الْغَيْبِ وَ الشَّهَادَةِ اللہ (تعالیٰ) پاک ہے اس سے جو یہ باتیں کرتے ہیں۔وہ غیب کا بھی علم رکھتا ہے اور حاضر کا بھی (علم رکھتا ہے)۔فَتَعٰلٰى عَمَّا يُشْرِكُوْنَؒ۰۰۹۳ پس جن کو وہ اُس کا شریک بناتے ہیں اُن سے وہ بہت اونچا ہے۔تفسیر۔فرماتا ہے۔تم ان لوگوں سے پوچھو کہ ساتوں آسمانوں اور عرشِ عظیم کا رب کون ہے۔اس کے جواب میں یہ لوگ یہی کہیں گے کہ اللہ ہے۔پس جب سب بلندیاں اللہ تعالیٰ نے ہی بنائی ہیں تو اعلیٰ روحانی تعلیم بھی اسی کی طر ف سے آسکتی ہے اور وہی عرشِ عظیم کا مالک ہے۔یعنی روحانی بادشاہت اُسی کے قبضہ میں ہے۔رُوحانی علوم کے لئے انسانی دماغ کی طرف توجہ کرنا اور فلاسفروں کی طرف جانا بیوقوفی کی بات ہے۔یہ علوم خدا تعالیٰ ہی کی