تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 393
قُلْ رَّبِّ اِمَّا تُرِيَنِّيْ مَا يُوْعَدُوْنَۙ۰۰۹۴رَبِّ فَلَا تَجْعَلْنِيْ فِي تو کہہ دے اے میرے رب ! اگر تو میری زندگی میں وہ کچھ دکھا دے جس کا ان سے وعدہ کیا جا رہا ہے تو الْقَوْمِ الظّٰلِمِيْنَ۰۰۹۵ اے میرے رب ! تو مجھے ظالم قوم میں سے نہ بنائیو۔(یعنی ان کے عذاب میں شریک نہ کیجئیو)۔تفسیر۔قرآن کریم کے مطالعہ سے معلوم ہوتا ہے کہ اُس میں بعض جگہ جمع کا لفظ استعمال کیا جاتا ہے مگر مراد ایک شخص ہوتا ہے۔جیسے قرآن کریم میں بہت جگہ ایک رسول کی طرف اشارہ کرتے ہوئے رسل کا لفظ بولا گیا ہے کیونکہ ہر رسول پہلے رسولوں کے مشابہ ہوتا ہے۔اسی طرح بعض جگہ ایک شخص کا ذکر ہوتا ہے اور مراد قوم ہوتی ہے۔جیسا کہ اس جگہ گو لفظ مفرد ہیں مگر مراد قوم ہے کیونکہ کفار پر عذاب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت کی وجہ سے آنا تھا اور جب اُس عذاب کا اصل باعث رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مخالفت ہی تھی تو پھر آپ کو اس دُعا کے سکھانے کا کچھ مطلب ہی نہیں رہتا۔کہ اے خدا ! ان کفار پر جب موعود ہ عذاب آئے تو مجھے اُس میں شریک نہ کیجئیو۔درحقیقت اس جگہ ہر قرآن کا پڑھنے والا مخاطب ہے اور اس کو سکھایا گیا ہے کہ (۱) تُو ہمیشہ یہ دعا کرتا رہ کہ کفا ر پر جب عذاب آئے تو میں ان کے عذاب میں شریک نہ ہوں۔کیونکہ میں تو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر ایمان لے آیا ہوں۔مجھے کسی کمزوری کی وجہ سے کفار کے ساتھ شریک کرکے دشمن کو ہنسی کا موقعہ نہ دیجئیو۔یا (۲) اے میرے خدا جب عذاب آئے اور کفار تباہ ہوجائیں اور مسلمانوں کے ہاتھ میں حکومت کی باگ ڈور آجائے تو میں تجھ سے دُعا کرتا ہوں کہ تُو مجھے اُس وقت بھی انصاف پر قائم رکھیئو اور مجھے ظالم نہ بننے دیجیئو۔اس لحاظ سے یہ اُن کے ظلم میں اشتراک سے بچنے کی دُعا ہے۔اور مراد یہ ہے کہ اے خدا ! جب ان پر تیرا عذاب آئے اور ان کی حکومت ٹوٹ کر مسلمانوں کو مل جائے تو ایسا نہ ہو کہ ہم لوگ نشۂ حکومت میں انصاف کو بھول کر ظلم کرنے لگیں اور تیری ناراضگی مول لے لیں۔وَ اِنَّا عَلٰۤى اَنْ نُّرِيَكَ مَا نَعِدُهُمْ لَقٰدِرُوْنَ۰۰۹۶ اور ہم اس بات پر قادر ہیں کہ جو ان سے وعدہ کرتے ہیں تجھے دکھا دیں۔تفسیر۔یعنی ہم اس بات پر قادر ہیں کہ تیری آنکھوں کے سامنے ان پر عذاب لے آئیں اور تیری زندگی میں ہی تیرے دشمنوں کو تباہ کر دیں جیسا کہ عملاً ہوا کہ مکہ آپ کی زندگی میں فتح ہوگیا اور کفار کی طاقت تباہ ہوگئی اور حکومت مسلمانوں کے ہاتھ میں آگئی اور پھرحضرت ابوبکر ؓ اور حضرت عمر ؓ کے دور میں تو اس حکومت نے اور بھی ترقی کی اور قیصرو کسریٰ کی حکومتوں کی اینٹ سے اینٹ بجا دی۔