تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 389 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 389

میں بھی سوچنے والوں کے لئے بڑے بھاری نشانات ہیں۔کئی بیماریاںایسی ہیںجو اندھیرے میں بڑھ جاتی ہیںاور کئی حوادث ہیںجو رات کی تاریکی کی وجہ سے پیش آتے ہیں۔دنیا میں جتنی چوری اور ڈاکہ کی وارداتیں ہوتی ہیںاُن میںسے اکثر وارداتیں رات کی تاریکی میں ہی ہوتی ہیں۔اسی طرح سانپ اور بچھو اور دوسرے حشرات الارض بھی رات کو ہی باہر نکلتے ہیں۔پھر تاریکی ایسی بلا ہے کہ نہ اس میں خوبصورت کی خوبصورتی کا پتہ لگتا ہے اور نہ بد صورت کی بد صورتی کا۔سیاہ اور سفید اور سُرخ اور زرد سب برابر ہوتے ہیں۔لیکن جب دن چڑھتا ہے تو بد صورت کی بد صورتی اور خوبصورت کی خوبصورتی نظر آنے لگتی ہے۔حشرات الارض اپنے اپنے بِلوں میں گھس جاتے ہیں۔چورچوری کرنے سے ڈرتا ہے اور ڈاکو ڈاکہ ڈالنے سے گریز کرتا ہے۔پھر کئی بیماریاں ہیں جن کا علاج سورج کی شعاعوں سے ہی ہوجاتا ہے اور مختلف امراض کے جراثیم سورج کی تپش سے فنا ہو جاتے ہیں۔غرض رات اور دن کا اختلاف بھی ایک عقلمند انسان کو اس طرف توجہ دلاتا ہے کہ جس طرح مادی عالم پر ایک تاریکی کا دور آتا ہے اور ایک روشنی کا۔اسی طرح روحانی عالم میں بھی بعض دفعہ الٰہی نور لوگوں کی نگاہ سے مخفی ہو جاتا ہے اور کئی قسم کی بُرائیا ں لوگوں میں پیدا ہونی شروع ہو جاتی ہیں۔مگر جب اللہ تعالیٰ اپنے کسی مامور کے ذریعہ ہدایت کی روشنی پھیلاتا ہے تو رات سے تعلق رکھنے والی تمام بلائیں اور آفات دُور ہو نے لگتی ہیں اور ایک نئی زندگی بنی نوع انسان کو حاصل ہوجاتی ہے۔پس جس طرح نیچر میں رات اور دن کا اختلاف پایا جاتا ہے اسی طرح لوگوں کو سمجھنا چاہیے کہ روحانی عالم میں بھی رات اور دن کی گھڑیاں آنی ضروری ہیں۔مگر مخالف بس ایک ہی رٹ لگائے چلے جاتے ہیں کہ کیا مرنے کے بعد مٹی ہو کر ہم پھر زندہ ہوجائیں گے ؟ یعنی کفار جب دلائل سے عاجز آجاتے ہیں تو یہ کہنا شروع کر دیتے ہیںکہ اس زندگی کا تو مقصد ہی کوئی نہیں پھر ان جھگڑوں میں پڑنے کا کیا فائدہ ؟ یہ تو پہلوں کی باتیں ہیں جو ہمارے کانوں میں دیر سے پڑتی چلی آرہی ہیں مگر قیامت ہے کہ وہ آتی ہی نہیں۔اس سے معلوم ہوتا ہے کہ دنیا بہت لمبے عرصہ سے چلی آرہی ہے اور ہمیشہ قربِ قیامت کا لوگوں کو خیال رہا ہے۔چنانچہ انبیاء کے مخالفین یہی اعتراض کرتے ہیں کہ آج تک تو ہم قیامت کا شور سُنتے رہے ہیں مگر وقت کے بعد وقت گذر رہاہے اور قیامت ابھی تک نہیں آئی۔جس سے معلو م ہوتا ہے کہ یہ خیال ہی غلط ہے۔حالانکہ یہ اُن لوگوں کا تو ہم ہے کیونکہ قیامت کسی خاص دن کا نام نہیں اور نہ وہ اس دنیامیں آئے گی بلکہ مرنے کے بعد کی جو زندگی ہے اور جس میں مجموعی طور پر تمام مُردہ روحوں کو جزا سزا دی جائے گی اس کا نام قیامت ہے اور وہ اس دنیا کے لوگوں کو نہ نظر آتی ہے اور نہ آئے گی۔پس اُن کا یہ کہنا بیوقوفی کی بات ہے کہ اب تک تو قیامت آئی نہیں ؟ ہاں یہ ممکن ہے کہ کسی دن اس دنیا کا نظام ختم کرکے پھر نئے سرے سے شروع کر دیا جائے۔لیکن