تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 388 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 388

لِّمَنِ الْاَرْضُ وَ مَنْ فِيْهَاۤ اِنْ كُنْتُمْ تَعْلَمُوْنَ۰۰۸۵ کہ اگر تم جانتے ہو تو (بتائو تو سہی )کہ یہ زمین اور جو کچھ اس میں ہے کس کا ہے ؟یقیناً وہ( اس کے سَيَقُوْلُوْنَ لِلّٰهِ١ؕ قُلْ اَفَلَا تَذَكَّرُوْنَ۰۰۸۶ جواب میں) کہیں گے اللہ کا۔اس پر تو کہہ دے کیا تم سمجھ سے کام نہیں لیتے؟ حلّ لُغَات۔اَسَاطِیْر اَسَاطِیْر سَطَرَ سے بنا ہے اور سَطَرَ الْکَاتِبُ کے معنے ہیں کَتَبَ اُس نے لکھا۔اور سَطَرَ الرَّجُلَ کے معنے ہیںصَرَعَہٗ اُس کو کُشتی میں گِرا لیا۔اور سَطَرَہٗ بِا لسَّیْفِ کے معنے ہیں قَطَعَہٗ بَہٖ اُس کو تلوار سے کاٹ ڈالا۔اور اِسْطَارٌ اُسْطَارٌ۔اُسْطُوْرٌ اور اَسَاطِیْرُ کے معنے لکھی ہوئی چیز کے ہیںاور ایسی باتوں کو بھی اَسَاطِیْرُ کہتے ہیں جن میں کوئی نظام نہ ہو۔اور قصّے اور کہانیوں کو بھی اَسَاطِیْرُ کہتے ہیں۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے۔ذرا سوچو تو سہی کہ تمہاری یہ شنوائیاں تمہاری بینائیاںاور تمہارے دل تمہارے کس کام کے بدلہ میں تمہیں ملے ہوئے ہیں۔ان چیزوں کے تم خالق نہیں بلکہ خدا ہی ہے جس نے تمہیں کان اورآنکھیں اور دل بخشے ہیں اور تمہاری پیدا ئش کی ابتداء بھی اُسی نے کی ہے اور تمہاری اُخروی پیدائش بھی وہی کرے گا اور تمہاری زندگی اور موت او ررات اور دن کا آگے پیچھے آنابھی اُسی کے قبضے میں ہے کیونکہ تمام نظام شمسی انسان کے اختیار سے باہرہے اور رات اور دن اس سے پیدا ہوتے ہیں۔اس جگہ کانوں اور آنکھوں کی پیدا ئش کی طرف توجہ دلا کر اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ جب خدا نے تمہیں کان اور آنکھیں عطا فرمائی ہیں اور جس نے اس چند روزہ حیات میں تمہیںسننے اور دیکھنے کی قابلیت عطا فرمائی ہے کیا وہ تمہارے روحانی کانوں کی سماعت اور روحانی آنکھوں کی بصارت کے لئے کوئی سامان پیدا نہ کرتا۔اسی طرح جب اُس نے تمہیںوہ دل بخشے ہیں جن پر تمہاری اس مادی زندگی کا انحصار ہے تو خدا تعالیٰ یہ کب بر داشت کر سکتاتھا کہ وہ تمہاری روحانی زندگی کا کوئی سامان پیدا نہ کرتا اور تمہیں کانوں اور آنکھوں اور دل کے بغیر رکھتا۔اسی طرح زندگی اور موت بھی اُسی کی طرف سے آرہی ہے۔وہی پیداکرتا اور وہی مارتا ہے۔یہی کیفیت روحانی عالم میں بھی دکھائی دیتی ہے۔وہ انبیاء کے ذریعہ مُردہ اور گِری ہوئی اقوام کو زندہ کر دیتا ہے۔اور اُن کا مقابلہ کرنے والی اقوام کو بامِ عروج سے اٹھاکر قعرِ مذلّت میں گِرا دیتا ہے۔یہی سبق رات اوردن کے آگے پیچھے آنے میں بھی مخفی ہے یا رات اور دن کا ظلمت اور بیاض میں جو اختلاف پایا جاتا ہے اُس