تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 376 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 376

بہرحال تھوڑے لوگ ہی ایک سے زیادہ شادیاں کر سکتے ہیں ہر ایک نہیں کرسکتا۔مگر سوال یہ ہے کہ آیا یہ حکم ہے یا ایک سے زیادہ شادیاں کرنےکی اجازت ہے۔قرآن اسے حکم قرار نہیں دیتا بلکہ اجازت قرار دیتا ہے اور جب یہ اجازت ہے تو جو لوگ اس سے فائدہ اٹھانے کے قابل ہوںگے وہی اس پر عمل کریں گے دوسرے نہیں اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں ایسے لوگ ایک دو فیصدی سے زیادہ نہیں ہو سکتے۔مگر بعض دفعہ زمانہ میں مخصوص حالات کے ماتحت ایسے تغیرات بھی ہو سکتے ہیں کہ قومی ترقی کے لئے ایک سے زیادہ شادیاں کرنی ضروری ہو جائیں۔۴۷ء کے شروع میں جب بہار میں فسادات ہوئے اور مسلمانوں کا قتل عام کیا گیا تو وہاں سے مسلمان بھاگے اور اِدھر اُدھر چلے گئے۔کوئی مدراس چلا گیا کوئی بمبٔی چلا گیا کوئی کلکتہ چلا گیا اور کوئی کسی اور جگہ چلا گیا۔ہماری جماعت کا مرکز چونکہ قادیان تھا اس لئے جو لوگ ہماری جماعت سے تعلق رکھتے تھے اُن میں سے بعض قادیان آگئے۔ایک دفعہ ان لوگوں میں سے ایک شخص مجھے ملنے آیا اور اُس نے کہا میں بہار سے آیا ہوں وہاں مسلمانوں پر جو تباہی آئی ہے اور جس طرح ہزاروں ہزار مسلما ن وہاں سے بھاگ گئے ہیںوہ آپ اچھی طرح جانتے ہیں۔میں آپ کے پاس صرف اس لئے آیا ہوں کہ مسلمانوں کی اس بر بادی اورتباہی کو دیکھ کر میرے دل میں یہ سوال پیدا ہوا ہے کہ اب مسلمان کیا کریں ؟ اور وہ کس طرح دوبارہ ہندو ستان میں ترقی کر سکتے ہیں ؟ میں نے کہا اس کا علاج تو موجود ہے مگر آپ لوگوں نے کرنا نہیں کہنے لگے۔کیوں نہ کریں گے۔اتنی بڑی تباہی کے بعد بھی اگر ہم نے اپنی بقا کے لئے کوئی تدبیر نہ کی تواور کب کریں گے میں نے کہا۔اسلام نے اسی قسم کی ضرورت کے لئے کثرت ِازدواج کی تعلیم دی تھی مگر مسلمانوں نے کہنا شروع کر دیا کہ یہ تعلیم تو محض وقتی ضرورت کے ماتحت دی گئی تھی۔عرب لوگ جاہل تھے اور اُن کو فوراً دبایا نہیں جا سکتا تھا چونکہ اُن میں کثرت ِ ازدواج کا رواج تھا اس لئے اسلام نے بھی اُن کی دلداری کے لئے یہ تعلیم دے دی ورنہ اسلام کا منشایہ نہیں تھا کہ ایک سے زیادہ شادیاں کی جائیں اسلام درحقیقت ایک شادی کا ہی قائل ہے عرب کے حالات کو مدنظر رکھتے ہوئے جو تعلیم اس نے دی تھی اسے سارے زمانوں پر چسپاں نہیں کیا جا سکتا۔مَیں نے کہا آج مسلمانوں پر جو وبال آیا ہے یہ محض اسلامی احکام کی بے حرمتی کرنے کا نتیجہ ہے۔قرآن کریم کے اور احکام جانے دو اس کے صرف دو مسٔلے ہی ایسے ہیں کہ اگر مسلمان صرف انہی پر عمل کرتے تو آج سارا ہندوستان مسلمانوں سے بھرا ہو اہوتا۔اُن میں سے ایک تبلیغ ہے اور ایک کثرتِ ازدواج اگر سارے مسلمان تبلیغ کرنے لگ جاتے تو آدھے ہندوستان کو مسلمان بنا لیتے اور اگر تعدد ازدواج پر عمل کرتے تو باقی آدھا ہندوستان بھی مسلمان ہو جاتا اور ہندو کہیں نظر بھی نہ آتا۔مگر تم نے اس پر عمل نہ کیا اور یہ بحث کر نی شروع کر دی کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم