تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 375
دیتے۔جب میرے کانوں میں یہ آواز پڑی تو طبعی طور پر میرے دل میں احساس پیدا ہوا کہ میں ان سے دریافت کروں کہ کیا بات ہو رہی تھی۔چنانچہ جب وہ بیٹھ گئے تو میں نے مسٹر متّر ا سے کہا کہ ابھی میرے کانوں میں اس قسم کی آواز آئی تھی کیا آپ بتا سکتے ہیں کہ آپ دونوں کی آپس میں کیا گفتگو ہو رہی تھی۔انہوں نے کہا ہاں صاحب ! انہوں نے تو کمال کر دیا۔ان صاحب سے آج مجھے ایک ایسا نکتہ معلوم ہو ا جس سے اسلام کی عظمت میرے دل میں بہت ہی بڑھ گئی ہے اور میں اسلام کا بہت زیادہ قائل ہو گیا ہوں یہ صاحب مجھے بتا رہے تھے کہ اسلام غیر اقوام کی دل داری کا اس قدر خیال رکھتا ہے کہ محض یہودیوں کے لئے اُس نے سؤر کو حرام کر دیا۔چونکہ یہودیوں کو سؤر سے نفرت تھی اس لئے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُن کے جذبات کا احترام کرتے ہوئے سؤر کو ممنوع قرار دے دیا۔اگر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو معلوم ہوتا کہ ہندوؤں کے دلوں میں گائے کی کیا عظمت ہے تو یقیناً آپ قرآن میں گائے کھانے سے بھی مسلمانوں کو منع کر دیتے۔کیونکہ اسلام نہایت ہی ملاطفت اور نرمی کی تعلیم دیتا ہے اور وہ دوسروں کے جذبات کا بہت خیال رکھتا ہے مجھے علم نہیں تھا کہ اسلام دوسر ی اقوام کا اس قدر خیال رکھتا ہے۔ان صاحب سے آج پہلی دفعہ مجھے یہ بات معلوم ہو ئی ہے اور اس بات نے اسلام کی عظمت میرے دل میں بہت ہی بٹھا دی ہے۔میں نے کہا مجھے افسوس ہے کہ میں اُ س عظمت کو جو آپ کے دل میں پیدا ہوئی ہے کچھ کم کرنے لگا ہوں۔آپ ذرا اِن صاحب سے پوچھئیے کہ قرآن محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بنا یا ہے یا خدا نے بنا یا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو تو علم نہیں تھا کہ ہندو اپنے دلوں میں گائے کی کس قدرعظمت رکھتے ہیں۔کیا خدا کو بھی اس بات کا پتہ نہیں تھا ؟ اس پر وہ مسلمان رئیس گھبرا کر کہنے لگا اوہو مجھ سے غلطی ہو گئی ہے۔ممکن ہے میرے اس جواب سے مسٹر متّرا کے دل میں اسلام کی عزت کچھ کم ہو گئی ہو مگر یہ زیادہ خطرناک بات تھی کہ وہ قرآن کے متعلق یہ سمجھنے لگتے کہ یہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی بنائی ہوئی کتاب ہے اور جونیا نکتہ اُن کے ذہن میں آتا تھا وہ اس میں داخل کر دیتے تھے۔حقیقت یہ ہے کہ اسلام نے تمام احکام محض ہمارے فائدہ کے لئے دیئے ہیں۔یہ بات بالکل غلط ہے کہ چونکہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ کے حالات کا علم نہ تھا یا چونکہ عربوں میں فلاں فلاں بات پائی جاتی تھی اس لئے قرآن نے بھی ان کا ذکر کر دیا۔کثرت ازدواج کا ہی مسئلہ لے لو۔ہم یہ مان لیتے ہیں کہ ساری دنیا ایسا نہیں کر سکتی اس لئے کہ بعض ملک ایسے ہیں جن میں کچھ مرد زیادہ ہیں۔بعض ملک ایسے ہیں جن میں کچھ عورتیں زیادہ ہیں اور بعض ملک عورتوں اور مردو ں کی تعداد کے لحاظ سے مساوی ہیں۔اب اگر عورتیں ایک دو فیصد ی بھی زیادہ ہوں تو