تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 377
نے یہ بات یونہی کہہ دی تھی اسی کا خمیازہ آج مسلمان بھگت رہے ہیں۔پھر میں نے انہیں کہا کہ اگر آج بھی مسلمان اس پر عمل کریں تو میں ذمّہ لیتا ہوں کہ پچاس سال میں ایک ہندو بھی ہندوستا ن میں نظر نہیں آئےگا۔آخر یہ واضح بات ہے کہ جب ہر شخص چار شادیاںکرنے کے لئے تیار ہو جائےگا تو شادی کے لئے اعلیٰ خاندان کی عورتیں میّسر نہیں آسکیں گی۔لازمًا گونڈ بھیل گومل اور دوسری ادنیٰ اقوام کی طرف انہیں توجہ کرنی پڑے گی اور ان کی لڑکیو ں سے شادی کرنی پڑے گی۔اس طرح دو چار سال میں ہی وہ سارے کے سارے خاندان ہی مسلمان ہو جائیں گے۔پھر ہندو کے ہاں اگر ایک بچہ پیدا ہو گا تو مسلمان کے ہاں چار چار پیدا ہوںگے۔ہندویوں بھی نسل کے لحاظ سے کمزور ہوتا ہے۔اس لئے اس کے اگر دو بچے ہوںگے تو تمہارے سولہ ہوںگے نتیجہ یہ ہوگا کہ بیس پچیس سال میں صرف تم ہی تم ہوگے او ر تمہارا ہی ہندوستان میں زور ہوگا۔وہ کہنے لگا جو بچے پیدا ہوںگے وہ کھائیں گے کہاں سے ؟ میں نے کہا یہی تو اس میں نکتہ ہے جسے تم سمجھے نہیں۔جب کوئی قوم بھوکی ہوتی ہے تو وہ ہمیشہ لڑنے مرنے پر آمادہ ہو جایا کرتی ہے۔ایک زمانہ آئےگا جب انہیں کھانے کے لئے روٹی نہیں ملے گی۔تن ڈھانکنے کے لئے کپڑا میسّر نہیں آئے گا۔علاج کے لئے دوا نہیں ملے گی۔رہنے کے لئے مکان نہیں ملے گا تب یک دم اُن میں جو ش پیدا ہو گا اور وہ کہیں گے اب ہم اس حالت میں زیادہ دیر تک نہیں رہ سکتے ہم مر جائیں گے یا دوسروں کو مار ڈالیں گے اور جب وہ اٹھے تو یکدم سارے ملک پر قابض ہو جائیں گے۔لوگ سمجھتے ہیں کہ بھوک ایک عذاب ہے حالانکہ بھوک خود ایک اللہ تعالیٰ کا بہت بڑا انعام ہے۔جس قوم میں بھوک آجائےگی وہ زیادہ دیر تک غلام بنا کر نہیں رکھی جا سکے گی۔وہ شیر بن جائےگی اور اس کا ایک ایک فرد مرنے مارنے کے لئے تیار ہو جائےگا اور جب وہ مرنے مارنے کے لئے تیار ہو گئے تو اُن کے مقابلہ میں کوئی اور قوم کہاں ٹھہر سکے گی۔پہلے ہی یہ ایک کے مقابلہ میں آٹھ ہوںگے او ر پھر بھوکے شیر ہوںگے۔نتیجہ یہ ہوگا کہ یہ لڑیں گے اور ملک پر قابض ہو جائیں گے۔اسی وجہ سے ہندوستان میں آج کل ادنیٰ اقوام زیادہ طاقتور ہیں لیکن مسلمان ذلیل ہیں کیونکہ ہندو سمجھتا ہے کہ مسلمانوں پر بے شک ظلم کر لو وہ اپنے اموال کی وجہ سے کبھی بغاوت نہیں کر سکتے لیکن ادنیٰ اقوام پر ظلم نہ کر و کیونکہ وہ غربت کی وجہ سے بغاوت پر آمادہ ہو جائیں گی۔حقیقت یہ ہے کہ تم جس کو عیب سمجھتے ہو وہ عیب نہیں بلکہ بہت بڑا انعام ہے اور یہی علاج ہے جو اللہ تعالیٰ کی طرف سے تمہارے لئے مقرر ہے۔مگر میں نے پھر کہا کہ علاج تو میں نے بتا دیا ہے مگر تم نے میری بات ماننی نہیں۔اس واقعہ پر چھ ماہ گذرے تھے کہ انڈیمان سے مجھے ایک خط ملا۔خط لکھنے والا کوئی مدرس یا پروفیسر تھا۔اُس نے سخت سُست کہنے کے بعد مجھے لکھا کہ آپ لوگ کچھ کرتے نہیں۔اگر کثرتِ ازدواج پر ہی مسلمان عمل کرتے تو آج