تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 360 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 360

قرآن کریم میں بیان فرماتا ہے اور مومنوں سے کہتا ہے تم یہ تو سوچو کہ کیا وہ تمہارے خیر خواہ ہیں ؟اوّل تو تمہیں غور کرنا چاہیے کہ یہ خدا تعالیٰ کا بنایا ہوا قانون ہے اور وہ انسانوں کے بنائے ہوئے قانون ہیں اور خدا تعالیٰ کا قانون اور انسان کا بنایا ہوا قانون برابر نہیں ہو سکتے۔پھر یہ تمہارے دشمن ہیں۔یہ لوگ اس بات کو برداشت ہی کب کر سکتے ہیں کہ تم ترقی کر جائواور دنیا میں تمہیں اعلیٰ مقام حاصل ہو جائے۔مثلاًامریکہ اور روس کو لے لو۔کیا امریکہ اور روس یہ پسند کریں گے کہ اُن کا ملک ترقی کرے یا یہ پسند کریں گے کہ اُن کا ملک پیچھے رہ جائے اور دوسرے ملک آگے نکل جائیں۔اگر کسی وقت ہم بڑے صناع ہو جائیں تو کیا امریکہ کی چیزیں ہم اُسی طرح منگواتے رہیں گے جس طرح اب منگواتے ہیں ؟ اور جب نہیں منگوائیں گے تو کیا امریکہ یہ پسند کر سکتا ہے کہ دوسرے ملک اتنی ترقی کر جائیں کہ وہ اس سے چیزیں نہ منگوائیں۔وہ تو ایسی ہی تدابیر اختیار کرےگا جن سے اُسے ترقی ہو اور دوسرے ممالک اُس سے پیچھے رہیں۔وہ جب تیسری منزل پر پہنچے گا تب وہ ہمیں دوسری منزل پر لے جائےگا ورنہ نہیں۔اس وقت بظاہر ہم یہ سمجھ رہے ہو ںگے کہ ہم نے بہت بڑی ترقی کی ہے مگر حقیقت یہ ہوگی کہ اُس نے دوسری منزل ہمارے سامنے اس لئے پیش کی ہوگی کہ وہ منزل اس کے کام کی نہیں رہی تھی اور وہ اُس سے آگے نکل چکا تھا۔اسی طرح مذہبی لحاظ سے دیکھ لو تو یورپ عیسائیت کو پیش کر رہا ہے جو قرآن کریم کے نزول سے بھی چھ سوسال پہلے کی تعلیم تھی اور قرآن کریم کے آنے پر منسوخ ہو گئی اور اس طرح ہمیں پیچھے کی طرف گھسیٹنا چاہتا ہے تاکہ ہم کسی کام کے نہ رہیں۔مگر مسلمان ہے کہ اس کے فریب میں آجاتا ہے۔وہ صرف اُس کی پتلون ، اُس کا کھانا اور اُس کی کوٹھی دیکھتا ہے اور اُس کے ہوائی جہاز دیکھتا ہے اور یہ نہیں سمجھتا کہ وہ میرے دماغ کو اپنا غلام بنا رہا ہے۔غرض وَ لَدَيْنَا كِتٰبٌ يَّنْطِقُ بِالْحَقِّ میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کی یہ دو عظیم الشان خوبیاں بیان کی ہیں۔اوّل یہ کہ اُس کے تمام احکام حکمت پر مبنی ہیں اور دوم یہ کہ وہ اپنے قوانین کے لحاظ سے دنیا کے لئے کامل اور آخری ہدایت نامہ ہے۔پس جب اُس میںتمام طبائع کا لحاظ رکھا گیا ہے اور تمام احکام حکمت کے ماتحت دئیے گئے ہیں اور شریعت کو ہر لحاظ سے مکمل کر دیا گیا ہے تو اب دنیا اپنی نجات کے لئے اور کس چیز کی محتاج ہے۔اُس کی کامیابی اور نجات اسی میں ہے کہ وہ قرآن کریم کو حق سمجھتے ہوئے اس کی اتباع کرے اور سمجھے کہ جو کچھ اس کتاب میں لکھا گیا ہے وہی سچ ہے مگر فرماتا ہے بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِيْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا۔باوجود اس کے کہ شریعت قابلِ عمل ہے اور اسے ہر لحاظ سے کامل کر دیا گیا ہے انبیاء کے منکر نیکی میں بڑھنے کی کوشش نہیں کرتے اور وہ غفلت کے لحافوں میں ہی سوئے رہتے ہیں یہاں تک کہ اُن پر عذاب آجاتا ہے اور وہ تباہ ہو جاتے ہیں۔اس میں بتا یا کہ اُن کا حق کوقبول نہ کرنا ایک