تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 361
تو اس وجہ سے ہے کہ وہ غفلت سے کام لے رہے ہیں اور کلام الٰہی کی طرف توجہ نہیں کرتے اور دوسرے اُن کی بداعمالی اس میں روک بنی ہوئی ہے۔اگر وہ غفلت کو ترک کر دیں اور بد اعمالی کی بجائے نیک اعمال اختیار کریں تو انہیں بھی ہدایت میسر آسکتی ہے۔ضمنی طور پر یہ آیت شیعوں کا بھی ردّ کرتی ہے۔شیعہ کہتے ہیں کہ حضرت علی ؓ کا حق مارا گیا تھا۔خلیفہ انہیں ہو نا چاہیے تھا مگر حضرت ابوبکر ؓ نے اُن سے خلافت کا حق غصب کر لیا۔اللہ تعالیٰ ان آیات میں اُن کے اس خیال کی بھی تردید کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ جس انعام کے دینے کا ہم فیصلہ کرتے ہیں وہ کبھی نہیں مارا جاتا کیونکہ قرآن کریم میں جو بات کہی جاتی ہے وہ ضرور پوری ہو کر رہتی ہے اگر قرآن کریم حضرت علی ؓ کی خلافت یا امامت کا فیصلہ کرتا تو کوئی طاقت اُن سے یہ انعام چھین نہیں سکتی تھی۔ان معنوں کے لحاظ سے بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِيْ غَمْرَةٍ مِّنْ هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَکا یہ مفہوم ہوگا کہ جو لوگ ایک طرف تو یہ کہتے ہیں کہ قرآن کریم نے یہ حق مقرر کیا تھا اور دوسری طرف یہ کہتے ہیں کہ لوگوں نے وہ حق چھین لیا وہ قرآنی علوم سے نا واقف ہیں اور چونکہ وہ جو کچھ عمل کر رہے ہیں وہ قرآن کریم کے مطابق نہیں اس لئے ان کے دلوں میں وہ ایمان پیدا نہیں ہوتا جو قرآن کریم پر عمل کر نے والوں کے دلوں میں پیدا ہوا کرتا ہے۔حَتّٰۤى اِذَاۤ اَخَذْنَا مُتْرَفِيْهِمْ بِالْعَذَابِ اِذَا هُمْ يَجْـَٔرُوْنَؕ۰۰۶۵لَا یہاں تک کہ جب ہم اُن میں سے آسودہ حال لوگوں کو عذاب میں گرفتار کر لیتے ہیں تو اچانک وہ فریادیں کرنے تَجْـَٔرُوا الْيَوْمَ١۫ اِنَّكُمْ مِّنَّا لَا تُنْصَرُوْنَ۰۰۶۶قَدْ كَانَتْ لگ جاتے ہیں۔(اُس وقت ہم اُن سے کہتے ہیں) آج فریادیں نہ کرو۔ہماری طرف سے تمہیں کوئی مدد نہ پہنچے گی۔اٰيٰتِيْ تُتْلٰى عَلَيْكُمْ فَكُنْتُمْ عَلٰۤى اَعْقَابِكُمْ میری آیتیں تم کو پڑھ کر سُنائی جاتی تھیں مگر تم ان( آیات یعنی مجموعہ قرآن) سے بے پرواہی کا اظہار کرتے ہوئے تَنْكِصُوْنَۙ۰۰۶۷مُسْتَكْبِرِيْنَ۠١ۖۗ بِهٖ سٰمِرًا تَهْجُرُوْنَ۰۰۶۸ اور بیہودہ باتیں کرتے ہوئے اور اس سے رُوگردانی کرتے ہوئے اپنی ایڑیوں کے بل پھر جایا کرتے تھے۔حلّ لُغَات۔یَجْئَرُوْنَ۔یَجْئَرُوْنَ جَأَ رَ سے مضارع جمع مذکر غائب کا صیغہ ہے اور جَأَرَ اِلَی اللہِ