تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 359 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 359

وجہ کیا ہے کہ تم قرآ ن اور اسلام کو چھوڑ کر اُن کے پیچھے دوڑتے ہو۔اُن کی غرض محض اپنی قومو ں کو فائدہ پہنچانا ہے۔چنانچہ یورپ کی ہزارو ں تھیوریاں ایسی ہیں کہ جب وہ پُرانی اور بوسیدہ ہو جاتی ہیں تو ہمارے سرمڑھ دی جاتی ہیں۔آخریہ غور کرنے والی بات ہے کہ ایک بندوق ہمارے ملک کو زیادہ فائدہ پہنچاسکتی ہے یا ایک فلسفہ کا خیال ہمارے ملک کو زیادہ فائدہ پہنچا سکتا ہے۔یہ ظاہر ہے کہ فلسفہ کا خیال ہمارے ملک کو زیادہ فائدہ پہنچا سکتا ہے مگر میرا تجربہ ہے کہ یورپ جب کسی فلسفہ کے خیال کو رّد کر دیتا ہے اور اُسے ناکارہ اور ناقابل عمل قرار د ے دیتا ہے تو بیس سال کے بعد ہمارے پروفیسر وہی فلسفہ کالجو ں میں پڑھانے لگ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ جدید نظر یہ ہے جو یورپ کی طرف سے پیش کیا گیا ہے گویا اُن کی مثال بالکل ویسی ہی ہوتی ہے جیسے کہتے ہیں کہ کوئی براہمن راجہ کے پاس گیا اور اُسے کہنے لگا کہ مجھے کچھ پُن دیجئیے۔ہندو مذہب میں یہ مسئلہ پایا جاتا ہے کہ اگر کوئی براہمن مانگنے آئے تو اُسے ضرور کچھ دینا چاہیے ورنہ اللہ تعالیٰ ناراض ہو تاہے۔راجہ بخیل تھا۔اُس کا جی نہیں چاہتا تھا کہ کچھ دے مگر مذہبی حکم کی وجہ سے مجبور بھی تھا اس لئے وہ اپنے وزیر سے کہنے لگا۔وزیر صاحب پچھلے سال جو ہماری گائے گم ہو گئی تھی وہ ان کو دے دیں۔اُس کا بیٹا پا س ہی کھڑا تھا وہ اپنے باپ سے بھی زیادہ بخیل تھا اُسے خیال آیا کہ یہ براہمن ہے ممکن ہے لوگوں میں اعلان کرے تو اسے وہ گائے مل جائے اس لئے کہنے لگا آپ یہ گائے کیوں دیتے ہیں۔پر ارسال جو ہماری گائے مر گئی تھی وہ دےدیں۔یہی یورپ کا حال ہے۔وہ ہر پرانی اور بوسیدہ اور سڑی گلی چیز ہماری طرف پھینک دیتا ہے اور کہتا ہے لینی ہے تو پندرہ سال پہلے کی بندوق لے لو۔بیس سال پہلے کے بنے ہوئے ٹینک لے لو۔نئی بندوقیں اور نئے ٹینک تو ہماری ضروریات کے لئے ہیں۔اسی طرح بیس بیس سال کے پرانے ڈسٹرائر اور کُروزر دیتا ہے اور کہتا ہے ان کی مرمت کرالو۔اب بھلا یورپ سے ایٹم بم تو مانگ کر دیکھو وہ کبھی دینے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔لیکن جب اٹامک انرجی سے ہر ملک کا م لینے لگ گیا اور یہ چیز تمام دنیامیں پھیل گئی تو اُس وقت امریکہ بھی آفر کرے گا کہ ۲۵ ایٹم بم فلاں سال کے بنے ہوئے ہمارے پاس موجود ہیں اگر چاہو تو ہم سے خرید لو ہم دینے کے لئے تیار ہیں۔جب یورپ کی یہ حالت ہے کہ وہ ہمیں اپنی نئی مادی چیزیں دینے میں بھی ہچکچاہٹ محسوس کرتا ہے تو ہمارے سمجھدار اور تعلیم یافتہ آدمی یہ خیال بھی کس طرح کرتے ہیں کہ وہ فلسفے جن سے قومیں بنتی ہیں۔وہ فلسفے جن سے ملک ترقی کرتے ہیں۔وہ فلسفے جن سے دنیا پر غلبہ حاصل ہوتا ہے۔وہ فلسفے جن سے اقوام کو عظمت حاصل ہوتی ہے وہ یورپ ہمیں فوراً دینے کے لئے تیار ہو جاتا ہے۔حقیقت یہ ہے کہ جب وہ کسی نظریہ سے اُکتا جاتے ہیں۔جب وہ اُسے بے کار اور ناکارہ چیز قرار دینے لگتے ہیں تو اس وقت کہتے ہیں اب یہ نظریہ تم لے لو اور اپنے اندر رائج کر لو۔یہی بات اللہ تعالیٰ