تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 343 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 343

رمضان کے روزے رکھنا فرض قرار دیا ہے مگر ساتھ ہی فرمایا ہے کہ اگر تم بیمار ہو یا سفر پر ہو تو بیماری سے اچھا ہونے پر یا سفر سے واپس آنے پر روزہ رکھ لو۔جہاد پر اسلام نے بڑا زور دیا ہے۔مگر ساتھ ہی کہہ دیا ہے کہ وہ بیمار اور کمزور اور لولے لنگڑے جو جہاد کرنے کی طاقت نہیں رکھتے لیکن اُن کے دل اس شوق میں تڑپ رہے ہوتے ہیں کہ کاش اُن میں بھی طاقت ہوتی اور وہ بھی جہاد میں شریک ہو تے اللہ تعالیٰ کی نگا ہ میں ویسے ہی جہاد میں شریک سمجھے جاتے ہیں جیسے وہ تندرست لوگ جو اپنی جانوں اور مالوں کو قربان کر رہے ہوتے ہیں۔چنانچہ قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔لَا یَسْتَوِی الْقٰعِدُوْنَ مِنَ الْمُؤْ مِنِیْنَ غَیْرُ اُولِی الضَّرَرِ (النساء :۹۶)یعنی مومنوں میں سے جو لوگ خدمت دین نہیں کررہے وہ ان لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جو اپنی تمام طاقتوں کے ساتھ خدا تعالیٰ کے دین کی خدمت اور اُس کے کلمہ کے اعلاء میں مشغول رہتے ہیں۔ہا ں جو لوگ خدمت دین سے اس لئے محروم رہتے ہیں کہ اُن کو کوئی تکلیف لاحق ہے تو اُن کے متعلق یہ حکم نہیں۔اللہ تعالیٰ اُن کی اس معذوری کو مدّنظر رکھے گا اور انہیں اپنے قرب اور ثواب سے محروم نہیں کرے گا۔اسی حقیقت کو قرآن کریم نے ان الفاظ میں بھی بیان کیا ہے کہ وَ الْوَزْنُ يَوْمَىِٕذِ ا۟لْحَقُّ (الاعراف :۹) یعنی قیامت کے دن جب اللہ تعالیٰ کی طرف سے جزا دی جائےگی تو اُن تمام امور کو ملحوظ رکھا جا ئےگا جو انسان کی ترقی میں حائل رہے اور دیکھا جائےگا کہ کن امور کے بجا لانے میں یہ طبعی طور پر معذور تھا اور کن امور کو اس نے غفلت سے ترک کیا۔غرض قرآن کریم کی یہ خوبی ہے کہ اُس میں فطرت ِ انسانی کے کسی پہلو کو نظر انداز نہیں کیا گیا اور کوئی ایسی تعلیم نہیں دی گئی جس پر عمل کرنا طبائع پر گراں ہو بلکہ اُس میں ایسی سہولتیں موجود ہیں جن کی وجہ سے ہر فطرت اور طبیعت کا انسان اس کے احکام پر عمل کر سکتا ہے۔جس طرح اس مادی عالم میں اللہ تعالیٰ نے ہر قسم کی اشیاء پیدا کر دی ہیں اور کسی فطرت اور طبیعت کا انسان بھی یہ نہیں کہہ سکتا کہ میری سہولت کے لئے اللہ تعالیٰ نے دنیا میں کوئی چیزپیدا نہیں کی۔اگر اس کے دانت سخت چیزوں کے چبانے کی طاقت رکھتے ہیں تو سخت چیزیں موجود ہیں اور اگر اُس کے دانت کمزور ہیں اور وہ نرم چیز وں کا محتاج ہے تو نر م نرم چیزوں کی بھی کمی نہیں۔اسی طرح رُوحانی عالم میں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم کے ذریعہ ہر قسم کے لوگوں کی ترقی کی تعلیم پیش کردی ہے اور ساتھ ہی ایسی سہولتیں بھی رکھی ہیں جن کی وجہ سے کوئی انسان دیانت داری کے ساتھ یہ نہیں کہہ سکتا کہ اُس کے لئے اسلامی شریعت ناقابلِ عمل ہے۔کٹھ حجتی اور بہانہ سازی ایک دوسری چیز ہے لیکن جہاں تک احکامِ شریعت کا سوال ہے اُن میں ایسی لچک موجود ہے کہ ہر طبیعت کا انسان بڑی آسانی سے ان پر عمل کر سکتا ہے۔