تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 342
وَ لَا نُكَلِّفُ نَفْسًا اِلَّا وُسْعَهَا وَ لَدَيْنَا كِتٰبٌ يَّنْطِقُ اور ہم کسی جان کے ذمہ کوئی کام نہیں لگاتے مگر اُس کی طاقت کے مطابق۔اور ہمارے پاس ایک اعمال نامہ ہے جو بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۰۰۶۳بَلْ قُلُوْبُهُمْ فِيْ غَمْرَةٍ مِّنْ سچی سچی بات کہتا ہے اور اُن پر کوئی ظلم نہیں کیا جائےگا لیکن اُن کے دل تو اس تعلیم کے متعلق غفلت میں پڑے ہوئے هٰذَا وَ لَهُمْ اَعْمَالٌ مِّنْ دُوْنِ ذٰلِكَ هُمْ لَهَا عٰمِلُوْنَ۰۰۶۴ ہیں اور ان کے سوا اُن کے اور بھی بہت سے( خراب) اعمال ہیں جو وہ کر رہے ہیں۔حلّ لُغَات۔اَلْحَقُّ۔الحقُّ حَقَّ کا مصدر ہے اور حَقَّہٗ حَقًّا کے معنے ہیں غَلَبَہٗ عَلَی الْحَقِّ حق کی وجہ سے اُس پر غالب آیا۔وَالْاَمْرَ: اَثْبَتَہٗ وَاَوْجَبَہٗ کسی امر کو ثابت کیا اور واجب کیا۔کَانَ عَلٰی یَقِیْنٍ مِّنْہُ کسی بات پر یقین سے قائم ہوا۔وَالْحَقُّ: ضِدُّ الْبَاطِلِ اور حق کے معنے سچ کے بھی ہیں۔نیز اس کے معنے اَلْاَمْرُ الْمَقْضِیُّ کے بھی ہیں یعنی فیصلہ شدہ بات۔اسی طرح اس کے معنے اَلْمَوْجُوْدُ الثَّابِتُ کے بھی ہیں۔یعنی ایسی چیز جو مضبوط اور قائم رہنے والی ہو اور اس کے معنے عدل۔مال۔ملکیت۔یقین۔موت اور دانائی کے بھی ہیں۔(اقرب) تفسیر۔فرماتا ہے ہم نے یہ تو کہا ہے کہ تم نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو لیکن ہم انسان سے اتنی ہی امید کرتے ہیں جتنی اُس میں طاقت ہو تی ہے۔یہ نہیں کہ کسی سے اُس کی طاقت سے زیادہ کی امید کی جائے یا اس کام کے نہ کرنے پر جو اسی کی طاقت سے زیادہ ہو اُسے سزا دی جائے۔اسلام لوگوں کی طبائع کے اختلاف اور اُن کی طاقتوں کی کمی بیشی کو ملحوظ رکھتا ہے۔مثلاً نماز کو ہی لے لو۔یہ اسلام کے بنیادی مسائل میں شامل ہے اور حکم دیا گیا ہے کہ تمام مسلمانوں کو پانچ وقت مساجد میں باجماعت نماز ادا کرنی چاہیے۔لیکن اس کے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا گیا ہے کہ ساری زمین ہی خدا تعالیٰ کی مسجد ہے۔اگر کسی جگہ مسجد موجود نہیں تو تم نمازکو چھوڑ نہیں سکتے بلکہ جہاں بھی چاہو صاف ستھری زمین پر نماز پڑھ سکتے ہو پھر اگر تم بیمار یا مسافر ہو تو بغیر جماعت کے بھی نماز پڑھ سکتے ہو اسی طرح اسلام نے نماز کے لئے وضو کی شرط رکھی ہے مگر ساتھ ہی کہہ دیا ہے کہ اگر پانی نہ ملے یا پانی کا استعمال طبی نقطہ نگاہ سے انسان کے لئے مضر ہو تو وہ تیمم کر لے۔کھڑے ہو کر نماز نہیں پڑھ سکتا تو بیٹھ کر پڑھ لے۔بیٹھنا بھی دو بھر ہو تو لیٹ کر پڑھ لے۔لیٹ کر پڑھنا بھی تکلیف دہ ہو تو اشارہ سے پڑھ لے۔یہی حال روزہ کا ہے۔اسلام نے