تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 344 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 344

اس کے مقابلہ میں عیسائیت دنیا کے سامنے یہ تعلیم پیش کرتی ہے کہ ’’ مسیح جو ہمارے لئے لعنتی بنا اُس نے ہمیں مول لے کر شریعت کی لعنت سے چھڑایا۔‘‘ (گلتیوں باب ۳ آیت ۱۳) گویا نعوذ باللہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے ذریعہ خدا تعالیٰ نے دنیا کے گلے میں لعنت کا ایک طوق ڈالا تھا جسے مسیح نے اُن کے گلے سے اُتار ڈالا۔اور انہیں شریعت کے احکام پر عمل کرنے سے نجات دے دی۔مگر یہ خدا تعالیٰ کی قدوسیت اور اُس کی سبوحیت پر بد ترین قسم کا الزام ہے کہ اُس نے آنکھیں بند کر کے موسیٰ ؑ کے ذریعے ایسے احکام بھجوا دئیے جن پر لوگوں کے لئے عمل ناممکن تھا۔اسلام اس گندے عقیدہ کو رد کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ شریعت میں ہمیشہ وہی احکام نازل کئے جاتے ہیں جن پر دنیا عمل کر سکتی ہے۔پس شریعت لعنت نہیں بلکہ شریعت سے انحراف ایک لعنت ہے جس سے ہرانسان کو بچنے کی کوشش کرنی چاہیے۔پھر فرماتا ہےوَ لَدَيْنَا كِتٰبٌ يَّنْطِقُ بِالْحَقِّ وَ هُمْ لَا يُظْلَمُوْنَ۔مفسرین لکھتے ہیں کہ اس جگہ کتاب سے مراد وہ نامۂ اعمال ہے جو ملائکہ لکھتے رہتے ہیں اور چونکہ ملائکہ یہ کام اللہ تعالیٰ کے حکم سے کر رہے ہیںاس لئے اللہ تعالیٰ نے اس کتاب کو اپنی طرف منسوب کیا ہے بعض کہتے ہیں کہ اس کتاب سے لوحِ محفوظ مراد ہے اور بعض نے وَلَدَیْنَا کِتٰبٌ سے قرآن کریم مراد لیا ہے۔(قرطبی زیر آیت ھذا)نامۂ اعمال کی صورت میں تو اس آیت کے یہ معنے ہوںگے کہ قیامت کے دن ہم ایسے امتیازی طریقوں کے ساتھ فیصلہ کریں گے کہ جتنا جتنا کوئی شخص انعام کا حق دار ہوگا اتنا انعام اُس کو مل جائے گا اور کوئی وجہ جو کسی کے غیر مجرم بنانے کی ہو اُسے نظر انداز نہیں کیا جائےگا۔لیکن چونکہ اس سے پہلے اسلامی شریعت کا ذکر کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس میں کوئی حکم ایسا نہیں جو ناقابل عمل ہو بلکہ ہر طبیعت اور فطرت کا انسان اس پر عمل کر سکتا ہے اس لئے وَلَدَیْنَا کِتٰبٌ سے درحقیت قرآن کریم ہی مراد ہے اور اللہ تعالیٰ اس میں اسلامی شریعت کی بعض اور خصوصیات پر روشنی ڈالتا ہے۔مفردات ِ امام راغب ؒ جو قرآنی لغت کی ایک مشہور کتاب ہے اُس میں حق کے معنوں پر بحث کرتے ہوئے لکھا ہے کہ اس کے ایک معنے اُس چیز کے بھی ہوتے ہیں جو حکمت کے مطابق ہو۔اسی لئے کہا جاتا ہے کہ فِعْلُ اللہِ تَعَالٰی کُلُّہٗ حَقٌّ یعنی اللہ تعالیٰ کا ہر کام حکمت پر مبنی ہے۔اسی طرح اللہ تعالیٰ قرآن کریم میں سورج اور چاند کی پیدا ئش کا ذکر کرتے ہوئے فرماتا ہے کہ مَاخَلَقَ اللّٰہُ ذٰلِکَ اِلَّا بِالْحَقِّ (یونس :۶) اللہ تعالیٰ نے اس سلسلہ کو حق و حکمت کے ساتھ پیدا کیا ہے۔یعنی ان چیزوں کی پیدائش بلاوجہ نہیں کی گئی بلکہ ان میں بڑی بھاری حکمتیں رکھی گئی ہیں۔