تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 341
کہنے لگے کہ آپ کی جماعت میں جو چندہ وصول کرنے کا کام کرتے ہیں وہ کس طرح دیانت داری سے کا م کرتے ہیں میں تو جسے بھی مقرر کرتا ہوں وہ تھوڑے دنوں میں ہی خائن ثابت ہو جاتا ہے اور مجھے اُسے نکالنا پڑتا ہے۔میں نے کہا ہمارے ہاں لوگ اس لئے بد دیانتی نہیں کرتے کہ اُن کا ایمان ہے کہ بد دیانتی انسان کے ایمان کو ضائع کر دیتی ہے۔وہ اُس وقت انگلستان چھٹی پر جا رہے تھے۔کہنے لگے اگر میں واپس آیا تو میں حکومت سے درخواست کروںگا کہ کواپریٹو سو سائٹیز کے انسپکٹر پہلے چھ ماہ کے لئے امامِ جماعت احمدیہ کے پاس بھیج دئیے جایا کریں تاکہ وہ اُن میں دیانت کی روح پیدا کریں۔ہماری جماعت کی برتری کا یہ احساس اُس انگریز رجسٹرار کے دل میں اسی لئے پیدا ہوا کہ اسلامی تعلیم کے مطابق ہمارا ہر فرد نیکی میں دوسروں سے آگے نکلنے کی کوشش کرتاہے اور وہ چاہتا ہے کہ کوئی دوسرا شخص اُس سے آگے نہ نکل جائے۔اگر یہ جذبۂ مسابقت قومی رنگ میں پیدا ہو جائے اور ہر فرد نیکیوں میں ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرے تو دنیا کے تمام جھگڑے اور فسادات مٹ جائیں اور امن اور صلح کا دور دورہ ہو جائے۔میں نے کئی دفعہ اپنی جماعت کے مخالفین کے سامنے یہ بات پیش کی ہے کہ گالیاں دینا اور بُرا بھلا کہنا کوئی خوبی کی بات نہیں اگر تم ہماری جماعت کا مقابلہ کرنا چاہتے ہو تو اس طرح مقابلہ کرو کہ اگر ہم نے بیرونی ممالک میں سو جگہ اپنے تبلیغی مشن قائم کئے ہو ئے ہیں تو تم دو سو جگہ اسلام کے تبلیغی مشن قائم کر دو۔اگر ہم پانچ یا دس ہزار آدمی سالانہ غیر مذاہب میں سے اسلام میں شامل کر تے ہیں تو تم بیس ہزار آدمی سالانہ غیر مذاہب میں سے اسلام میں شامل کرو۔اگر ہمارے اندر دو ہزار واقفین زندگی پائے جاتے ہیں تو تم اپنے اندر چار ہزارواقفینِ زندگی پیدا کرکے دکھا دواور ہم سے بڑھ کر اسلام اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا نام پھیلانے کی کوشش کرو۔مگر اس مقابلہ کی طرف کوئی نہیں آتا۔گالیاں دےکر اور جھوٹے الزامات لگا کر وہ چاہتے ہیں کہ انہیں غلبہ حاصل ہو جائے مگر اسلام ایسے گندے مقابلوں کی اجازت نہیں دیتا۔اسلام کہتا ہے کہ اگر تم نے مقابلہ ہی کرنا ہے تو نیکی اور تقویٰ میں کرو۔خدا تعالیٰ کی محبت اور تعلق باللہ میں کرو۔اسلام کی اشاعت اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے نام کے پھیلانے میں کرو۔دنیوی ترقی کی تدابیر میں کرو۔اور گندے مقابلوں میں اپنی طاقتیں خرچ نہ کرو۔