تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 340 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 340

وَ الَّذِيْنَ يُؤْتُوْنَ مَاۤ اٰتَوْا وَّ قُلُوْبُهُمْ وَجِلَةٌکا یہ مطلب ہے کہ انسان جو کچھ چاہے کرے مگر خدا تعالیٰ سے ڈرتا رہے۔آپ نے فرمایا نہیں اس سے یہ مراد نہیں بلکہ مراد یہ ہے کہ انسان نیکی کرے اور ساتھ ہی خدا تعالیٰ سے ڈرتا بھی رہے (فتح البیان زیر آیت ھذا) اس کے بعد فرماتا ہے کہ یہی لوگ ہیں جو دوڑ کر نیکیوں میں حصّہ لیتے اور ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔گویا مسابقت کی روح اُن میں پائی جاتی ہے۔یہ ایک فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر پایا جا تا ہے اور وہ چاہتا ہے کہ ترقی کے میدان میں دوسروں سے آگے نکل جائے۔طالب علم اسی جذبہ کے ماتحت محنت کرتے ہیں اور وہ ایک دوسرے سے آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔بچے اسی جذبہ کے ماتحت کھیلوں میں امتیازی مقام حاصل کرنا چاہتے ہیں۔تاجر۔صناع۔زمیندار۔ڈاکٹر۔انجنیئر۔موجد اور سائنسدان اسی جذبہ کے ماتحت اپنی تجارت اور صنعت اور زراعت اور طب اور انجنیئرنگ اور سائینس او ر ایجادات کے سلسلہ میں ایک دوسرے پر برتری حاصل کرنا چاہتے ہیں۔قومیں اور حکومتیں بھی اسی جذبہ کے ماتحت اپنے اندر زیادہ سے زیادہ طاقت پیدا کر تیں اور دوسروں سے ایک بلند اور نمایاں مقام حاصل کرنا چاہتی ہیں بلکہ اور تو اور حیوانوں میں بھی یہ جذبہ پایا جاتا ہے اور وہ بھی مسابقت کی رُوح اپنے اندر رکھتے ہیں۔اگر دو گھوڑے آگے پیچھے آرہے ہوں تو فوراً اگلا گھوڑا پچھلے گھوڑے کے پائوں کی آہٹ پا کر اپنے قدم تیز کر دیتا ہے اور چاہتا ہے کہ دوسرا اُ س سے آگے نہ نکل جائے مگر اس کو دوڑتا دیکھ کر پچھلا گھوڑا بھی اپنے قدم تیز کر دیتا ہے۔پھر بسا اوقات پچھلا گھوڑا آگے نکل جا تا ہے اور اگلا گھوڑا پیچھے رہ جاتا ہے۔غرض یہ ایک طبعی اور فطری جذبہ ہے جو ہر انسان کے اندر پایا جا تا ہے۔اسلام نے اسی طبعی جذبہ کی طرف مومنوں کو ان آیات میں توجہ دلائی ہے اور بتا یا ہے کہ تمہارا کام ہر میدان میں دوسروں سے آگے نکلنا ہے اگر تم معمار ہو تو تمہاری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کسی قوم کا معمار تم سے آگے نہ بڑھے۔اگر تم صناع ہو تو تمہاری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کسی قوم کا صناع تم سے آگے نہ بڑھے۔اگر تم موجد ہو تو تمہاری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کسی قوم کا موجد تم سے آگے نہ نکل سکے۔اگر تم ڈاکٹر یا طبیب ہوتو تمہاری کوشش یہ ہونی چاہیے کہ کسی قوم کا ڈاکٹر اور طبیب تم سے اس فن میں آگے نہ نکلے۔اسی طرح تمہیں دیانت اور امانت میں اتنا اعلیٰ نمونہ پیش کرنا چاہیے کہ کوئی قوم اس نیکی میں تمہارا مقابلہ نہ کر سکے۔اگر تم ایسا کرو گے تو تم دنیا کے معلّم اور استاد بن جائو گے اور لوگ تمہارے پیچھے چلنے پر مجبور ہو ںگے۔مجھے یاد ہے مسٹر سٹرک لینڈ کواپریٹو سوسائٹیز کے ایک انگریز رجسٹرار تھے۔وہ ایک دفعہ شملہ میں مجھے ملے اور