تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 339
ہیں جس طرح نوح ؑ نے توحید کا مسئلہ پیش کیا تھا اسی طرح نوح ؑ کے بعد جس قدر نبی آئے انہوں نے بھی یہی تعلیم دی کہ خدا ایک ہے اس کے بعد پھر اور رسول آئے اور وہ بھی یہی تعلیم دیتے رہے اور جو منکر تھے وہ ہلاک ہوتے رہے۔پھر موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ آئے اور انہوں نے بھی ایسی ہی تعلیم دی۔پھر مریم کے بیٹے مسیح ؑ آئے اور اُن کو بھی خدا تعالیٰ نے دنیا کے لئے ایک نشان قرار دیا اور دشمنوں سے بچا کر ایک محفوظ جگہ پہنچا دیا۔پس معلوم ہوا کہ تو حیدِ باری تعالیٰ مذہب کا اعلیٰ جزو ہے۔اور سب نبی اس کی تعلیم دیتے رہے ہیں اور یہ تعلیم دینے والے لوگ ہمیشہ اپنے دشمنوں پر غالب رہے ہیں۔پھر مسیح ؑ کے بعد جو اُن کی اُمت نے یہ بیٹے کا مسئلہ نکالا ہے یہ کس طرح صحیح ہو سکتا ہے ؟ اس کے بعد اللہ تعالیٰ اس اختلاف کی وجہ بیان کرتا ہے اور فرماتا ہے فَتَقَطَّعُوْۤا اَمْرَهُمْ بَيْنَهُمْ زُبُرًا۔یعنی اس اختلاف کی اصل وجہ یہ ہے کہ جب نبی وفات پاگئے اور اُن کی تعلیم پر ایک لمبا زمانہ گذر گیا تو اُن کے ماننے والوں نے ہی غفلت میں مبتلا ہو کر اُن کی تعلیم کو کوئی اور شکل دے دی اور نئے نئے مذہب بن گئےاور چونکہ ہر ایک مذہب میں تھوڑی تھوڑی سچائیاں موجود ہیں اُن کے ماننے والے اُن سچائیوں کو پیش کرکے خوش ہیں کہ دیکھو ہم سچے ہیں۔حالانکہ جب سچے مذہب کے انہوں نے ٹکڑے کئے تو ضرور تھا کہ اُن میں سچائی بھی ہو پس اُس سچائی کا وجود اُن کے سچا ہونے کی علامت نہیں۔سچا وہ ہے جس کے پا س کامل تعلیم ہو۔پھر فرماتا ہے اَیَحْسَبُوْنَ اَنَّمَا نُمِدُّھُمْ بِہٖ مِنْ مَّالٍ وَّ بَنِیْنَ۔نُسَارِعُ لَھُمْ فِی الْخَیْرٰتِ بَلْ لَّا یَشْعُرُوْنَ۔یعنی یہ لوگ سمجھتے ہیں کہ ان کو جو مال ملا ہے اور انہیں اولاد دی گئی ہے وہ ان کی عزت اور وجاہت اور اُن کے درجہ کی بلندی کی وجہ سے ہے حالانکہ وہ جانتے نہیں کہ یہی چیزیں ان کو تباہی کی طرف لے جانے والی ہیں۔پھر فرماتا ہے ان لوگوں کے مقابلہ میں مومنوں کی یہ حالت ہوتی ہے کہ وہ اپنے رب کے خوف سے ہمیشہ لرزاں رہتے ہیں اور اُس کے نشانوں پر ایمان لاتے ہیں اور خدا تعالیٰ کا کسی کو شریک قرار نہیں دیتے اور ہر قسم کی نیکی کر کے بھی اپنے آپ کو قصور وار ہی سمجھتے ہیں۔اور خدا تعالیٰ کے سامنے اپنے آپ کو جواب دہ قرار دیتے ہیں۔یعنی ہر قسم کی نیکیاں بجا لانے کے باوجود اُن میں کبر پیدا نہیں ہوتا بلکہ اور بھی انکسار پیدا ہو جاتا ہے اور اُٹھتے بیٹھتے خدا تعالیٰ کا خوف اُن کے دلوں پر مستولی رہتا ہے۔ان آیات میں اللہ تعالیٰ نے اس طرف اشار ہ فرمایا ہے کہ کفر اور اسلام کے مقابلہ میں اسی فریق کا انجام اچھا ہوگا جس میں یہ چار خوبیاں پائی جائیں گی۔اوّل خشیت اللہ دوم ایمان باٰیات اللہ۔سوم شرک سے اجتناب اور چہارم خدمتِ دین اور پھر یہ خوف کہ ہم نے کچھ نہیں کیا۔حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے دریافت کیا کہ یا رسول اللہ کیا