تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 338 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 338

اُس کا لَا اِلَہَ اِلَّااللہُ کہنا اُسے کوئی فائدہ پہنچا سکتا ہے اور نہ اسلام کے کسی فرقہ کی طرف اپنے آپ کو منسوب کرکے وہ خدا تعالیٰ کو خوش کر سکتا ہے۔خدا تعالیٰ اُسی وقت خوش ہوگا جب وہ اپنے پیٹ میں حلا ل روزی ڈالے گا۔اگر وہ دھوکا بازی کے ساتھ روپیہ کماتا ہے اور حرام روٹی اپنے پیٹ میں ڈالتا ہے تو اس کا یہ سمجھنا کہ اس کے نتیجہ میں اُسے نیک اعمال کی بھی توفیق مل جائےگی بالکل غلط ہے لیکن اگر وہ حلال روزی کھائے گا تو اس کے نتیجہ میں اسے نیک اعمال کی بھی توفیق مل جائے گی۔یعنی اُس کے بعد اگر وہ سنوار کر نماز پڑھنا چاہے تو پڑھ سکتا ہے۔اگر وہ احتیاط کے ساتھ روزہ رکھنا چاہے تو رکھ سکتا ہے اگر وہ شرائط کےمطابق زکوۃ دینا چاہے تو دے سکتا ہےیہ نہیں کہ آپ ہی آپ اُس سے یہ اعمال صادر ہو نے شروع ہو جائیں گے ، آپ ہی آپ کوئی عمل ظاہر نہیں ہو سکتا صرف اُن کے لئے ایک رستہ کھل جاتا ہے۔پس اس کے یہ معنے نہیں کہ اگر ایک ہندو حلال روزی کھائےگا تو وہ نماز پڑھنے لگ جائےگا۔یا ایک سکھ حلال روزی کھائےگا تو وہ ذکرالٰہی کرنے لگ جائےگا۔بلکہ اس کے یہ معنے ہیں کہ ان نیکیوں کا راستہ اُس کے لئے کھل جائےگا اور اگر وہ نماز اور روزہ اور ذکر الٰہی کو اختیار کرنا چاہے گا تو ان نیکیوں کی اُسے توفیق مل جائےگی لیکن اس کے بغیر وہ عمل صالح کی اُمید رکھے تو اُس کی یہ اُمید پوری نہیں ہو سکتی۔دنیا میں لوگ عام طورپرپوچھا کرتے ہیں کہ ہم خدا تعالیٰ سے کس طرح محبت کریں۔نیکیوں میں کس طرح ترقی کریں۔گناہوں اور مختلف قسم کی بدیوں سے کس طرح بچیں۔اپنے مقاصد میں کامیابی کس طرح حاصل کریں۔اللہ تعالیٰ ان سب سوالات کا یہ جواب دیتا ہے کہكُلُوْا مِنَ الطَّيِّبٰتِ وَ اعْمَلُوْا صَالِحًا۔اگر تم یہ چاہتے ہو کہ عمل صالح تم سے صادر ہوں تو تم حلال اور طیب چیزیں استعمال کرو۔اگر تم حرام خوری کرو گے تو تم میں دھوکا بھی ہوگا۔فریب بھی ہوگا۔دغا بازی بھی ہوگی۔لالچ بھی ہوگا۔معاملات میں خرابی بھی ہوگی۔اس کے بعد یہ امید رکھنا کہ تم نیکیوں میں ترقی کرنے لگ جائو گے اور خدا تعالیٰ کی محبت تمہارے دلوں میںپیدا ہو جائےگی محض ایک خام خیالی ہے۔تمہیں دو میں سے ایک چیز بہر حال چھوڑنی پڑے گی۔یا تو اعمال صالحہ چھوڑنے پڑیں گے اور یا حرام خوری چھوڑنی پڑے گی۔جو شخص ان دونو ں کو اکٹھا کرنا چاہےگا وہ ہمیشہ ناکام ہوگا۔کامیاب وہی ہوگا جو حرام خوری کوچھوڑ دے اور حلال اور طیب رزق حاصل کرنے کی کوشش کرے۔پھر فرماتا ہے وَ اِنَّ هٰذِهٖۤ اُمَّتُكُمْ اُمَّةً وَّاحِدَةً وَّ اَنَا رَبُّكُمْ فَاتَّقُوْنِ۔یعنی دیکھو یہ تمہاری جماعت ایک ہی جماعت ہے اور میں تمہارا رب ہوں۔پس مجھے ہلاکت سے بچنے کے لئے اپنی ڈھال بنا لو۔اس جگہ اُمَّۃٌ سے مراد انبیاء کے ماننے والے نہیں بلکہ خود انبیاء مراد ہیں اور اللہ تعالیٰ نے اُمَّةً وَّاحِدَةً کہہ کر اس طرف اشارہ فرمایا ہے کہ تمام انبیاء کی تعلیموں پر غور کرکے دیکھ لو سب کے حالات آپس میں ملتے جلتے ہیں اور ان کے دعوے بھی ملتے جلتے