تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 332 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 332

مِنَ الْمَآءِ( ہود:۴۴)یعنی میں ابھی کسی پہاڑ کی چوٹی پر پہنچ کر پناہ لے لوںگا۔جو اس طوفان کی زد سے مجھے بچائے گا۔حضرت یوسف علیہ السلام کے متعلق بھی قرآن کریم میں آتا ہے کہ وَ لَمَّا دَخَلُوْا عَلٰى يُوْسُفَ اٰوٰۤى اِلَيْهِ اَخَاهُ قَالَ اِنِّيْۤ اَنَا اَخُوْكَ فَلَا تَبْتَىِٕسْ بِمَا كَانُوْا يَعْمَلُوْنَ( یوسف :۷۰) یعنی جب حضرت یوسف علیہ السلام کے بھائی ان کے پاس آئے تو انہوں نے بن یامین کو اپنے پاس جگہ دی اور اُ س سے کہا کہ میں ہی تیرا گمشدہ بھائی ہوں۔پس جو کچھ یہ تجھ سے سلوک کرتے رہے ہیں اس کی وجہ سے اب تو غمگین نہ ہو۔اس جگہ بھی اٰوٰی کا لفظ انہی معنوں میں استعمال کیا گیا ہے کہ اُن کا بھائی حضرت یوسف ؑ کی گمشدگی اور پھر اپنے ہی بھائیوں کے ظلم و ستم کی وجہ سے نہایت تکلیف سے اپنے دن گذار رہا تھا حضرت یوسف علیہ السلام نے اُسے عزت کے ساتھ اپنے پا س جگہ دی اور پھر اُسے تسلی دی کہ میں ہی تیرا بھائی ہوں اور اس طرح اُس کی سب تکلیف دُور ہو گئی۔اور اُسے امن اور سکون میسر آگیا۔لغت عرب کے لحاظ سے بھی جب اٰوٰی اِلٰی مَنْزِلِہٖ کہیں تو اس کے معنے یہ ہوتے ہیں کہ وہ بے اطمینانی کی جگہ سے آرام کی جگہ پر آگیا۔چنانچہ انہی معنوں میں اللہ تعالیٰ کے حضور یہ دُعا کی جاتی ہے کہ اَللّٰھُمَّ آوِنِیْ اِلٰی ظِلِّ کَرَمِکَ وَعَفْوِکَ ( اقرب) یعنی اے اللہ ! مجھے اپنے کرم اور عفو کے سایہ میں پناہ دے۔پس اٰوَيْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍ میں اٰوٰی کا لفظ استعمال فرما کر اللہ تعالیٰ نے اس امر کی طرف اشارہ فرمایا ہے کہ اُس نے مسیح ؑ اور اُن کی والدہ کو ایک بڑی مصیبت سے نجات دےکر ایسی جگہ پناہ دی جو بلند اور اونچی زمین پر واقع تھی اور جہاں پانی کے چشمے جاری تھے۔کیونکہ اٰوٰی کے معنے ہی یہی ہوتے ہیں کہ’’ مصیبت سے نجات دےکر پناہ دی۔‘‘اب اگر تاریخی طور پر غور کیا جائے تو معلوم ہوگا کہ واقعہ صلیب سے پہلے حضرت مسیح ؑ اور اُن کی والدہ پر کوئی ایسا زمانہ نہیں گذرا جس میں اُن کو کوئی بڑی مصیبت پہنچی ہو۔اور جس سے اُن کو پناہ دی جانی ضروری ہو۔صرف صلیب کا واقعہ ایسا تھا جس نے اُن کو اور اُن کی والدہ حضرت مریم صدیقہ کو سخت غم پہنچایااور چونکہ اللہ تعالیٰ نے اپنے فضل سے حضرت مسیح ؑ کو صلیب سے بچالیا تھا اس لئے ضروری تھا کہ اب وہ کسی اور ملک کو ہجرت کر جاتے۔کیونکہ ملک شام قیصر روم کے ماتحت تھا اور وہ قیصر کے باغی قرار پا چکے تھے۔اگر حضرت مسیح ؑ اس ملک میں رہتے تو دوبارہ گرفتار کر لئے جاتے۔اس لئے اللہ تعالیٰ نے انہیں ہجرت کا حکم دے دیا اور پھر اپنے فضل و احسان سے انہیں ایک ایسے بلند مقام پر جگہ دی جو اُن کے دشمنوں کی دست درازی سے محفوظ تھااور جہاں خوشگوار پانی کے چشمے بہتے تھے۔یہ مقام جیسا کہ تاریخی شواہد سے ثابت ہے کشمیر کا علاقہ ہے جسے اعلیٰ درجہ کے چشموں اور سر سبز و شاداب مقامات اور نہایت عمدہ آب و ہوا کی وجہ سے لوگ جنّت نظیر قرار دیتے ہیں بلکہ خود کشمیر کا لفظ حضرت مسیح ؑ کے سفرِ کشمیر کی طرف