تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 331 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 331

وَمِنْہُ اَللّٰھُمَّ اٰوِنِیْ اِلٰی ظِلِّ کَرَمِکَ وَعَفْوِکَ اور انہی معنوں میں یہ لفظ اس دعا میں بھی استعمال ہو اہے کہ اے اللہ ! مجھے اپنے کرم اور عفو کے سایہ میں جگہ دے۔(اقربـ) اٰوَی اِلٰی مَنْزِلِہِ وَ اٰوَی مَنْزِلَہُ کے معنے ہیں نَزَلَ بِہٖ لَیْلًا اَوْ نَھَارًا (اقرب) دن کو یا رات کو اپنے گھر میں آٹھہرا۔یعنی بے اطمینانی کی جگہ سے آرام کی جگہ پر آگیا۔رَبْوَۃ۔اَلرَّبْوَۃُ : اَلرَّابِیَۃُ۔یعنی ربوۃ کے معنے اونچے ٹیلے کے ہیں۔(اقرب) قَرَارٍ۔قَرَارٍ قَرَّ کا مصدر ہے اور قَرَّ فِی الْمَکَانِ قَرَارً کے معنے ہیں ثَبَتَ وَ سَکَنَ کسی جگہ پر ٹھہرا۔نیز قَرَارٌ کے معنے ہیں مَا قُرَّفِیْہِ جس میں ٹھہرا جائے اَلْمُسْتَقَرُّ۔جائے قرار۔(اقرب) تفسیر۔اس آیت میں اللہ تعالیٰ نے حضرت عیسیٰ علیہ السلام اور اُن کی والدہ حضرت مریم صدیقہ کا ذکر کیا ہے اور فرمایا ہے کہ جب حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو بہت تکلیفیں دی گئیں تو اللہ تعالیٰ نے اُن کی مدد کی اور انہیں خدا تعالیٰ کے زندہ اور طاقتور ہو نے کا ایک نشان بنا دیا اور پھر اُن دونوں کو دشمنوں کے عذاب سے بچایا۔اور ایک بلند زمین پر جو رہنے کے لحاظ سے بھی اچھی تھی اور جس میں پانی کے چشمے بھی جاری تھے اُن کو بسا دیا۔عربی زبان میں اٰوٰی کا لفظ ہمیشہ ایسی جگہ بولا جا تا ہے جہاں احسا ن کے طور پر کسی مصیبت اور دُکھ سے بچائے جانے کا ذکر ہو جیسے قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو مخاطب کر کے فرماتا ہے کہ اَلَمْ یَجِدْکَ یَتِیْمًا فَاٰوٰی (الضحٰی:۷) کیا اُس نے تجھے یتیم پا کر اپنے زیر سایہ جگہ نہیں دی۔تو ابھی رحم ِمادر میں ہی تھا کہ تیرا والد فوت ہو گیا۔اور تُو یتیمی کی حالت میں آگیا مگر اللہ تعالیٰ نے خود تیری پرورش کے سامان پیدا فرمائے اور تجھے اپنے سایۂ عاطفت میں پناہ دی۔اسی طرح سورۂ انفال میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَ اذْكُرُوْۤا اِذْ اَنْتُمْ قَلِيْلٌ مُّسْتَضْعَفُوْنَ فِي الْاَرْضِ تَخَافُوْنَ اَنْ يَّتَخَطَّفَكُمُ۠ النَّاسُ فَاٰوٰىكُمْ وَ اَيَّدَكُمْ بِنَصْرِهٖ وَ رَزَقَكُمْ مِّنَ الطَّيِّبٰتِ لَعَلَّكُمْ تَشْكُرُوْنَ (الانفال:۲۷ ) یعنی تم اس وقت کو یاد کرو جب کہ تم تھوڑے تھے اور زمین میں کمزور سمجھے جاتے تھے اور تم ڈرتے تھے کہ لوگ تم کو اُچک کر نہ لے جائیں پھر اللہ تعالیٰ نے تمہیں پناہ دی اور اپنی تائید تمہارے شامل حال رکھی۔اور ہر قسم کی پاک چیزوں سے تمہیں رزق بخشا تاکہ تم خدا تعالیٰ کا شکر ادا کرو۔اس آیت میں بھی اٰوٰی کا لفظ ایسے موقعہ پر استعمال کیا گیا ہے جب کہ ایک بڑی مصیبت اور تکلیف کے بعد خدا تعالیٰ نے مسلمانوں کو مدینہ میں امن بخشا اور انہیں اپنی تائید سے نوازا۔اسی طرح قرآن کریم میں ذکر آتا ہے کہ جب حضرت نوح ؑ نے طوفان کے وقت اپنے بیٹے سے کہا کہ يٰبُنَيَّ ارْكَبْ مَّعَنَا اے بیٹے ہمارے ساتھ سوار ہو جا تو اُن کے بیٹے نے جواب دیا کہسَاٰوِيْۤ اِلٰى جَبَلٍ يَّعْصِمُنِيْ