تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 333
صریح اشارہ کرتا ہے۔کیونکہ کشمیری زبان میں کشمیر کو کشیر کہتے ہیں جو درحقیقت ایک عبرانی لفظ ہے جو کاف اور اشیر سے مرکب ہے کاف کے معنے مانند کے ہیں اور اشیر عبرانی زبان میں ملک شام کو کہتے ہیں۔پس کشیر کے معنے تھے ’’ ملک شام کی مانند۔‘‘ لیکن کثرت استعمال سے الف ساقط ہو گیا اور صرف کشیر رہ گیا۔جسے بعد میں غیر قوموں کے لوگوں نے آہستہ آہستہ کشمیر بنا دیا۔مگر یہ عجیب بات ہے کہ کشمیری زبان میں اب تک کشمیر کو کشیر ہی کہا جاتا اور اسی طرح لکھا جاتا ہے اور کشمیر کے رہنے والوں کو کشمیر ی لوگ کاشر کہتے ہیں اور پنجابی لوگ کشمیری کہتے ہیں۔پھر صرف کشمیر کا لفظ ہی اس امر کا ثبوت نہیں کہ کسی زمانہ میں عبرانی قوم اس جگہ ضرور آباد رہ چکی ہے بلکہ تاریخی کتب سے صراحتہً ثابت ہے کہ آج سے دو ہزار سال پہلے ایک اسرائیلی نبی کشمیر میں آیا تھا جو بنی اسرائیل میں سے تھا اور شہزادہ نبی کہلاتا تھا اُس کی قبر محلہ خان یار میں ہے جو یوز آسف کی قبر کے نام سے مشہور ہے۔یہ لفظ جیسا کہ بانیٔ سلسلہ احمدیہ نے اپنی کتب میں لکھا ہے یسوع آصف کا بگڑا ہو ا ہے۔آصف عبرانی زبان میں اُس شخص کو کہتے ہیں جو اپنی قوم کو تلاش کرنے والا ہو اور یوز کا لفظ یسوع سے بگڑا ہو اہے گویا مسیح ؑ کا یہ نام اس لئے رکھا گیا کہ وہ اسرائیل کے اُن دس قبائل کی تلاش اور اُن کو خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچانے کے لئے نکلے تھے جن کو بخت نصر غلام بنا کر لے آیا تھااور جسے اُس نے مشرق کے علاقوں یعنی افغانستان اور کشمیر میں لاکر بسا دیا تھا۔(History of Afghanistan p۔39 & The Races of Afghanistan chapter 2 p۔15) حضرت مسیح ؑ نے خود ایک موقعہ پر اپنے اس مشن کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ میں اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔‘‘ ( متی باب ۱۵ آیت ۲۴) اسی طرح یوحنّا میں حضرت مسیح ؑ کا یہ قول درج ہے کہ : ’’ میری اور بھی بھیڑیں ہیں جو اس بھیڑ خانہ کی نہیں مجھے اُن کا بھی لانا ضروری ہےاور و ہ میری آواز سُنیں گی۔پھر ایک ہی گّلہ اور ایک ہی چرواہا ہوگا۔‘‘ ( یوحنا باب ۱۰ آیت ۱۶) پھر حضرت مسیح ؑ نے اپنے حواریوں کو ایک دفعہ تبلیغی ہدایات دیتے ہوئے فرمایا ’’ غیر قوموں کی طرف نہ جانا۔اور سامریوں کے کسی شہر میں داخل نہ ہونا بلکہ اسرائیل کے گھرانے کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے پاس جانا‘‘ ( متی باب ۱۰ آیت ۵،۶) ان حوالہ جات سے یہ امر واضح ہوتا ہے کہ جس طرح فلسطین کے یہود کو حضرت مسیح ؑنے خدا تعالیٰ کا پیغام پہنچایا