تفسیر کبیر (جلد ۸)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 330 of 723

تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 330

’’ خداوند تیرا خدا بھسم کر نےوالی آگ ہے۔‘‘ ( استثنا باب ۴ آیت ۲۴) اگر اُس کی یہ بات درست تھی کہ ’’ انسان کے سبب سے میں پھر کبھی زمین پر لعنت نہیں بھیجوںگا۔‘‘ (پیدائش باب ۸ آیت ۲۱) تو اُس نے بنی اسرائیل سے یہ کیوں کہا کہ اگر تم میں سے کسی نے میرے احکام کو نہ ماناتو ’’ شہر میں بھی تو لعنتی ہوگا اور کھیت میں بھی لعنتی ہوگا۔تیرا ٹوکرا اور تیری کھٹوتی (یعنی آٹا گوندھنے کا برتن) دونو ں لعنتی ٹھہریں گے۔تیری اولاد اور تیری زمین کی پیداوار اور تیرے گائے بیل کی بڑھتی اور تیری بھیڑ بکریوں کے بچے لعنتی ہوںگے۔تو اندر آتے لعنتی ٹھہرےگا اور باہر جاتے بھی لعنتی ٹھہرےگا۔خداوند اُ ن سب کا موں میں جن کو تو ہاتھ لگائے لعنت اور اضطراب اور پھٹکار کو تجھ پر نازل کرے گا۔جب تک تو ہلاک ہو کر جلد نیست و نابود نہ ہو جائے۔‘‘ ( استثنا باب ۲۸ آیت ۱۶ تا ۲۰ ) غرض بائیبل نے جو کچھ کہا تھا وہ خود اس کی اپنی اندرونی شہادت سے باطل ثابت ہو تا ہے لیکن قرآن بتا تا ہے کہ نوح ؑ کے بعد متواتر رسول آئے اور اُ ن کے دشمن اپنی نافرمانیوں کی وجہ سے ہلاک ہو تے رہے۔یہاں تک کہ آخر میں حضرت موسیٰ علیہ السلام آئے اور ان کے مخالف بھی تباہ ہو گئے اور تاریخ بتاتی ہے کہ قرآن کریم کی بات ہی سچی ہے۔یعنی متواتر کئی قومیں حضرت نوح ؑ کے بعد اللہ تعالیٰ کے عذاب سے ہلاک ہوتی رہیں۔پس بائیبل کی یہ بات صریح غلط ہے کہ نوح ؑ کی قوم پر عذاب بھیجنے کے بعد خدا تعالیٰ پچھتایا اور اُس نے عہد کیا کہ آئندہ وہ ایسا عذاب دنیا پر کبھی نازل نہیں کرے گا۔اگر وہ سچا عہد تھا تو پھر اُ س نے مختلف وقتوں میں کیوں عذاب نازل کئے اور کیوں بنی نوع انسان کو ہلاک کیا۔وَ جَعَلْنَا ابْنَ مَرْيَمَ وَ اُمَّهٗۤ اٰيَةً وَّ اٰوَيْنٰهُمَاۤ اِلٰى رَبْوَةٍ اور ہم نے ابن مریم اور اُس کی ماں کو ایک نشان بنایا اور ہم نے اُن دونوں کو ایک اونچی جگہ پر پناہ دی جو ذَاتِ قَرَارٍ وَّ مَعِيْنٍؒ۰۰۵۱ ٹھہرنے کے قابل اور بہتے ہوئے پانیوں والی تھی۔حل لغات۔اٰوٰی۔اٰوَیْتُہٗ: اَنْزَلْتُہٗ۔یعنی اٰوَیْتُہٗکے معنے ہیں میں نے اُسے اپنے پاس اتارا۔