تفسیر کبیر (جلد ۸) — Page 327
وَ سُلْطٰنٍ مُّبِيْنٍۙ۰۰۴۶اِلٰى فِرْعَوْنَ وَ مَلَاۡىِٕهٖ فَاسْتَكْبَرُوْا۠ وَ ہم نے موسیٰ ؑ اور اس کے بھائی ہارون کو اپنے نشان اور کُھلا کُھلا غلبہ دے کر فرعون اور اُس کے سرداروں کی كَانُوْا قَوْمًا عَالِيْنَۚ۰۰۴۷فَقَالُوْۤا اَنُؤْمِنُ لِبَشَرَيْنِ مِثْلِنَا وَ طرف بھیجا۔پس انہوں نے تکبر کیا اور وہ سرکش لوگوں میں سے بن گئے۔پھر انہوں نے کہا کیا ہم اپنے قَوْمُهُمَا لَنَا عٰبِدُوْنَۚ۰۰۴۸فَكَذَّبُوْهُمَا۠ فَكَانُوْا مِنَ جیسے دو انسانوں پر ایمان لے آئیں حالانکہ ان دونوں کی قوم ہماری غلامی کر رہی ہے۔پس انہوں نے اُن الْمُهْلَكِيْنَ۰۰۴۹وَ لَقَدْ اٰتَيْنَا مُوْسَى الْكِتٰبَ لَعَلَّهُمْ دونوں (یعنی موسیٰ اور ہارون) کو جھٹلادیا۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ بھی ہلاک ہونےوالے لوگوں میں سے بن گئے۔يَهْتَدُوْنَ۰۰۵۰ اور ہم نے موسیٰ کو( وہ) کتاب دی (جس کو سب جانتے ہیں) تاکہ وہ (اور اس کی قوم )ہدایت پائیں۔تفسیر۔فرماتا ہے عاد کے بعد پھر کچھ اور لوگ گذرے تھے جیسا کہ ثمود کی قوم جسے قرآن کریم نے عاد کا جانشین قرار دیا ہے (الا عراف:۷۵) اور ہم نے ان کے اندر پے در پے رسول بھیجنے شروع کر دئیے مگر جس قوم کے پاس بھی رسول آیا۔اس نے انکار کیا اور ہم نے بھی قوم کے بعد قوم کو ہلاک کرنا شروع کر دیا۔اس آیت میں بائیبل سے ایک بہت بڑا اختلاف کیا گیا ہے۔لیکن تاریخ شاہد ہے کہ قرآن کریم نے جوبات کہی ہے وہی ٹھیک ہے اور بائیبل کی غلط۔بائیبل میں لکھا ہے کہ نوح ؑ کے وقت میں جب عذاب آیا اور اس کے زمانہ کے لوگ تباہ ہوگئے تو اللہ تعالیٰ پچھتا یا اور اُس نے وعدہ کیا کہ آئندہ وہ ایسا عذاب دنیا پر کبھی نہیں لائےگا۔چنانچہ پیدائش باب ۸ آیت ۲۱ میں لکھا ہے کہ ـ’’ خداوند نے اپنے دل میں کہا کہ انسان کے سبب سے میں پھر کبھی زمین پر لعنت نہیں بھیجو ںگا کیونکہ انسان کے دل کا خیال لڑکپن سے برا ہے۔‘‘